سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں5 فیکلٹیز کا اعلان

اراضی پرقائم دکانیں درس گاہ کا تقدس پامال کر رہی ہیں


Staff Reporter October 23, 2012
اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے 3 اراکین کے نام اب تک نہیں بھجوائے گئے جس کی وجہ سے سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی سنڈیکٹ کمیٹی کے نام کا باقاعدہ اعلان التوا کاشکارہے۔ فوٹو: فائل

سندھ مدرستہ السلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کہا ہے کہ سندھ مدرستہ السلام کی زمین پرقائم دکانیں اس تعلیمی درس گاہ کا تقدس پامال کررہی ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے 3 اراکین کے نام اب تک نہیں بھجوائے گئے جس کی وجہ سے سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی سنڈیکٹ کمیٹی کے نام کا باقاعدہ اعلان التوا کاشکارہے،سندھ مدرسہ کویونیورسٹی کادرجہ ملنے کے بعد اسے تعلیمی معیارسے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے یونیورسٹی کو آئندہ سال سے سالانہ فنڈ جاری کیے جائینگے،وہ پیر کوسندھ مدرستہ السلام یونیورسٹی میں سندھ مدرسہ کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد اس کا ماضی حال اور مستقبل پر صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے۔

اس موقع پر ڈینز فیکلٹی ڈاکٹر انجم بانو کاظمی ڈاکٹرفوزیہ خان ڈاکٹر سیما جیلانی بھی موجود تھیں ،انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی تزئین و آرائش کے لیے آرکیٹیکٹ سے پلان بنوایا جا رہا ہے، انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر 5 فیکلٹیز تعلیم، میڈیا اسٹیڈیز، انوائرمینٹل اسٹیڈیز، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر سائنس قائم کی گئی ہیں جبکہ یورنیورسٹی میں 2کرور ڑوپے کی لاگت سے ٹیلی ویژن اسٹوڈیو اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جائیگا،یونیورسٹی کا اضافی کیمپس بنانے کے لیے ایجوکیشن سٹی میں 100ایکڑ زمین حاصل کر لی گئی ہے۔