بولان میں جعفرایکسپریس حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی 150 سے زائد زخمی

حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو مچھ سول اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔


ویب ڈیسک November 17, 2015
حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو مچھ سول اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ فوٹو:فائل

ISLAMABAD: بولان میں آب گم كے قریب كوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی ٹرین جعفرایكسپریس كے انجن كا بریك فیل ہونے كے باعث 8 بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور 22 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوگئے۔

https://img.express.pk/media/images/q611/q611.webp

کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی 9 بوگیوں پر مشتمل جعفر ایکسپریس 300 سے زائد مسافروں كولے کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی تو آب گم كے پہاڑی علاقے انجن کے اچانک بریك فیل ہونے كے بعد ٹرین اوورشوٹ ہوگئی جس كے بعد ڈرائیور اسے ریلوے ٹریك سے كیچ سلپ سائڈنگ پر لے گیا تاہم رفتار زیادہ ہونے كے باعث ٹرین كا انجن اور بوگیاں پٹڑی سے اتر كرالٹ گئیں جس كے باعث انجن ڈرائیورمحمدایوب، فائرمین وسیم اقبال، ڈیزل فیٹر محمد امین رئیسانی، شنٹرقمرعباس، چارج مین سبی رضوان جب كہ مسافروں میں محمد یوسف، فضل الدین، عبدالقیوم، بی بی صفیہ، بی بی مكہ، دوبھائی كاشف وسیم اور محمد اسماعیل موقع پرجاں بحق ہوگئے، حادثے میں تقریباً 150 سے زائدمسافر زخمی ہوگئے، حادثے كے بعد ریلوے كی ریسكیو ٹیموں اور ایمبولینسوں كے علاوہ لیویز اور ایف سی اہلكار جائے وقوعہ پرپہنچ گئے اور ریسكیو كا كام شروع كردیا گیا۔

https://img.express.pk/media/images/q77/q77.webp

https://img.express.pk/media/images/Army-rescue-Jaffar-Express/Army-rescue-Jaffar-Express.webp

حادثے كی اطلاع ملتے ہی مچھ اوركوئٹہ كے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ كردی گئی اورپاک فوج كی جانب سے امدادٹیموں كی مدد اورزخمیوں كوكوئٹہ منتقل كرنے كے لیے ہیلی كاپٹراورفرنٹیئركور كی كوئیک رسپانس ٹیم ایمبولینسز كے ہمراہ موقع پرپہنچ گئی جس نے 65 سے زائد زخمیوں كو ایمبولینسز اور بسوں كے ذریعے مچھ منتقل كیا جب کہ 27 زخمیوں كوہیلی كاپٹركے ذریعے كوئٹہ سی ایم ایچ منتقل کیا گیا، اس كے علاوہ ایک درجن كے قریب زخمی سول سنڈیمن اسپتال لائے گئے اور دیگر زخمیوں كوسول اسپتال اورسی ایم ایچ میں منتقل كیا گیا جہاں بیشتر زخمیوں كی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، حادثے کے بعد اضافی ڈاكٹروں اور طبی عملے كو طلب كرلیاگیا۔

https://img.express.pk/media/images/q84/q84.webp

چیف كنٹرولرریلوے محمدكاشف کے مطابق كوئٹہ سے سبی تک پہاڑی علاقے میں ریلوے ٹریک پر5 سائڈنگ ہے جودوزان، ہرک، مچھ اورآب گم كے علاقوں میں موجود ہے وہاں پرٹرین كے پہنچنے اورٹرین كوروک كركانٹے تبدیل كركے تمام چیزوں كو چیک كیا جاتاہے۔ انہوں نے بتایاكہ حادثے كی اطلاع ملتے ہی ریلوے انتظامیہ موقع پرپہنچ گئی اورریلوے حكام نے امدادی كاموں كا آغاز كردیاتھا جب کہ ریلوے كے عملے نے متاثرہ ٹریک كی مرمت كركے اسے ٹرینوں كی آمدورفت كو بحال كردیا ہے، حادثے کے بعد آنے والی ٹرینوں كوسبی ریلوے اسٹیشن پرروک لیا گیا تھا۔

https://img.express.pk/media/images/q93/q93.webp

حادثے كے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاكٹرعبدالمالک بلوچ، كمانڈر سدرن كمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، چیف سیكرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، ڈی آئی جی فرنٹیئر كور بریگیڈئر طاہرمحمود ٹرین حادثے كے جائے وقوعہ پرپہنچے اورامدادی كاموں كاجائزہ لینے كے ساتھ ساتھ وہاں پرموجود متعلقہ حكام سے حادثے سے متعلق معلومات حاصل كی۔

مقبول خبریں