اوباما اور رومنی کا آخری مباحثہ

اوباما دوبارہ اقتدار میں آئے یا میٹ رومنی امریکا اپنے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے


Editorial October 24, 2012
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارک اوباما اور میٹ رومنی کے مباحثے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امریکا دنیا بھر میں دہشت گردوں اور اپنے مخالفین کو ’’پکڑو یا مارو‘‘ پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔ فوٹو: فائل

امریکا میں صدارتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار بارک اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار میٹ رومنی کے درمیان تیسرے اورآخری مباحثے میں دونوں امیدوار اس بات پرمتفق نظر آئے کہ ایران کوجوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوگا۔

دونوں حریف پاکستان کو امریکی خارجہ پالیسی میں نظراندازکرنے کے حق میں نہیں تھے۔رومنی کا کہنا تھاکہ اگرپاکستان ناکام ہوتا ہے تو افغانستان کے لیے بہت بڑاخطرہ پیدا ہوجائے گا اس لیے وہ پاکستان کوصحیح سمت چلنے میں مدد دیںگے۔انھوں نے اوباما پر الزام لگایا کہ ایک آدمی کو پکڑنے کے لیے زمین آسمان ایک کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور اسے پکڑنے کے لیے پاکستان سے اجازت لی جانی چاہیے تھی۔ اوباما نے جواباً کہا کہ اس آدمی کو پکڑنے کے لیے درحقیقت زمین اور آسمان ایک کرنے کی ضرورت تھی اور ہم نے ایسا ہی کیا اور اگر ہم نے پاکستان کی اجازت لی ہوتی تو ہم اسامہ کوکبھی نہیں پکڑ سکتے تھے،پاکستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا وہ بھی ایسے میں جب اس کے پاس سو سے زیادہ جوہری ہتھیارہیں اور وہاں فوج اورآئی ایس آئی ہی کی چلتی ہے۔

نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات سے قبل صدارتی امیدواروں کا تیسرا اور آخری مباحثہ درحقیقت ایک آئینہ ہے جس میں یک قطبی دنیا میں موجود بین الاقوامی قوتوں کو امریکی مفادات اور اس کے آیندہ کے اہداف کو پرکھنے اور اپنی پوزیشنوں پر نظر ثانی کرتے دیکھنے کی مہلت بھی ملتی ہے جب کہ اس مباحثے کو عالمی سیاست میں امریکا کی استعماری ، سامراجی اور جدید نوآبادیاتی پالیسیوں کے نئے دورانئے اور بلیو پرنٹ سے تعبیر کرنا بھی غلط نہ ہوگا، جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارک اوباما اور میٹ رومنی کے مباحثے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امریکا دنیا بھر میں دہشت گردوں اور اپنے مخالفین کو ''پکڑو یا مارو'' پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے گا ۔ رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ نے ڈرون حملوں کو ادارہ جاتی حیثیت دے دی ہے ۔

اور آیندہ 'ڈس پوزیشن میٹرکس' کے نام سے ڈرون اٹیک اور کائونٹرٹیررازم کی پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی کو مزید متحرک کیا گیا ہے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے اوباما کا یہ کہنا کہ وہاں سکہ فوج اورانٹیلی جنس ایجنسی کا چلتا ہے ملکی جمہوری نظام پر ایک غیر دوستانہ چوٹ ہے۔ یہ اس انکل سام کا تبصرہ ہے جس نے تیسری دنیا میں آمروں کو ہمیشہ سر پر بٹھایا۔چنانچہ ان کے ریمارکس جہاں پاکستان کی خود مختاری کے لیے ایک سوالیہ نشان ہیں وہاں دو طرفہ پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں مستقبل کی اندوہ ناک صورتحال کا ایک خاکہ بھی ہے جسے ہمارے حکمرانوں کو مستقبل میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اوباما دوبارہ اقتدار میں آئے یا میٹ رومنی امریکا اپنے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔اب ہمارے ارباب اختیار کو بھی قومی مفاد ،ملکی وقار و سالمیت،خود مختاری، اور عزت نفس کے تحفظ کے لیے ثابت قدمی اور دور اندیشی کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ویسے تو دونوں صدارتی امیدواروں نے پاکستان کو''تنہا '' چھوڑنے کاکوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تاہم امریکا کے نان نیٹو اتحادی اور دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن ملک کی حیثیت میں پاکستان کی قربانیوں کا صرف زبانی چرچا ہوا اور ذکر برسرالزام ہی آیا ہے۔

اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہوسکتی ہے ،جب کہ امریکی رعونت اور ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کو مسلسل دبائو میں رکھا گیا۔یوں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نئے اہداف کا صاف مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ پاکستان سمیت یمن اور دیگر ممالک پر بھی ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ بارک اوباما نے صدارتی انتخاب سے 2ہفتے قبل ہونے والے تیسرے اورآخری مباحثے میں اپنے حریف امیدوار میٹ رومنی پر برتری حاصل کر لی تاہم انھیں اس موقع پرملکی معیشت کے حوالے سے اپنی معاشی کارکردگی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوزکی طرف سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق مباحثے کے53فیصد ناظرین نے اوباماجب کہ 23فیصد نے میٹ رومنی کو فاتح قرار دیا۔ 24 فیصدناظرین کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان90منٹ تک جاری رہنے والامباحثہ برابر رہا۔

سی این این کی طرف سے جاری سروے رپورٹ میں48فیصدناظرین نے اوباماجب کہ 40فیصدنے میٹ رومنی کو فاتح قراردیا۔منگل کو برطانوی نشریاتی ادارے کی سروے رپورٹ کے مطابق 21 ممالک کے شہری اوباما کو دوبارہ امریکی صدر دیکھنا چاہتے ، جب کہ پاکستانی شہری اوباما کو دوبارہ صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ حقیقت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اہل پاکستان کو امریکی عوام سے کوئی پرخاش نہیں بلکہ وہ امریکی پالیسیوں سے نالاں ہیں جس کے باعث پوری دنیا معرض خطر میں پڑ چکی ہے۔

دونوں صدارتی امیدواروں کو پاکستان کی دہشت گردی کی جنگ میں کردار کا اعتراف صرف لفظی اور زبانی جمع خرچ کے طور پر نہیں کرنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات اور امریکی ترجیحات پر نظر ثانی کرتے ہوئے خطے میں امن اور دہشت گردی کے خاتمے کی مشترکہ کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔وال سٹریٹ جرنل نے اسرائیل ،انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے دو بڑے دلچسپ نکتے اٹھائے ہیں ۔ اس نے لکھا ہے کہ صدارتی امیدواروں نے مباحثے میں بھارت کے بارے میں خاموشی اختیار کی اور کسی کے لب پر انڈیا کا نام تک نہ آیا۔ادھر نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون میں صدر اوباما پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے کہ اس نے اسرائیل کو بس کے نیچے پھینک دیا ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ دبائو کا شکار اسرائیل ریپبلیکن صدور کے ہاتھوں ہوا ۔

میٹ رومنی کاکہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی کا تحفظ اور استحکام امریکاکے مفاد میں ہے،اگر پاکستان ٹوٹا تو یہ افغانستان اورامریکا کے لیے خطرناک ہو گا، پاکستان کے پاس100 سے زائد جوہری ہتھیار ہیں،امریکا پاکستان سے تعلقات ختم نہیں کرسکتا،پاکستان میں سول حکومت کو مضبوط بنانا ہو گا،دنیا سے انتہاپسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی امیدواروں کے خدشات اپنی جگہ مگر پاکستانی حکمران دنیا کو باور کرائیں کہ ان کا ملک دہشت گردی کا اصل ہدف ہے۔امریکا پر نائن الیون کے بعد سے کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی،مگر پاکستان کشتۂ جورو ستم ان ہی انتہا پسند قوتوں کے ہاتھوں ہوا جوکبھی امریکا کے یار تھے۔بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے!