حکومت نے عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرادیا 313 درآمدی اشیا پر ڈیوٹی میں 10 فیصد تک اضافہ

دہی، مکھن، پنیر، شہد، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، انناس، امرود، مالٹا اور آم پر بھی 10 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی


ویب ڈیسک November 30, 2015
دہی، مکھن، پنیر، شہد، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، انناس، امرود، مالٹا اور آم پر بھی 10 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی، فوٹو: فائل

KARACHI: وفاقی حکومت نے 313 درآمدی اشیا پر عائد ڈیوٹی میں 10 فیصد تک اضافہ کردیا ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی اشیا پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔

https://img.express.pk/media/images/q3/q3.webp

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم كی ہدایت پر عام آدمی كی اشیا پر ٹیكس كی شرح نہیں بڑھائی گئی اس سے عام عوام کے لیے اشیا مہنگی نہیں ہوں گی البتہ درآمدی، دہی، انڈے اور مُرغی سمیت دیگر لگژری درآمدی اشیا استعمال كرنے والوں كو كچھ اضافی ٹیكس ادا كرنا ہوگا۔ وفاقی حكومت نے ایك ہزار سے زیادہ درآمدی اشیا پر كسٹمز، ریگولیٹری اور ایكسائز ڈیوٹی كی شرح میں ایک فیصد اضافی ڈیوٹی عائد كرنے كے علاوہ 5 سے 10 فیصد تک اضافے كی منظوری دے دی ہے جس کے لیے ایس آر اوز جاری كیے گئے ہیں۔

https://img.express.pk/media/images/q4/q4.webp

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیك دودھ ، دہی، مكھن، چاكلیٹ، چیز،كریم، مشروبات، قدرتی شہد، انجیر، پائن ایپل، آم، مینگو پلپ، اسٹرابیری، ٹماٹر،كیچپ، آلو، بسكٹ، كیوی فروٹ، گوشت، منرل واٹر، آئس كریم اور رس بھی مہنگے كردیئے گئے۔ كتوں اور بلیوں كی خوراک پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی كی شرح 10 سے بڑھا كر 15 فیصد كردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ كاسمیٹك كا سامان، شیمپو، صابن، ٹوتھ پیست، شیونگ سامان اورڈیوڈرینٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 سے بڑھا كر 15 فیصد كردی گئی ہے جب کہ فریج ، ٹی وی، ایئر كنڈیشنرز اور پنكھوں پر اضافی ٹیكسز لگا دیے گئے ہیں۔

https://img.express.pk/media/images/q5/q5.webp

جنریٹرزاور اس كے اسپیئرپارٹس، مائیكرو ویو اوون، الیكٹرک لیمپس ڈی وی ڈیز، سی ڈیز، ایل سی ڈیز اور ایل ای ڈیز اور الیكٹرونكس كی دیگر مصنوعات پربھی ریگولیٹری كی شرح 10 سے بڑھا كر 15 فیصد كردی گئی ہے۔ 40 ارب روپے كے منی بجٹ كے تحت ایک ہزار سگریٹ پر ایكسائز ڈیوٹی كی شرح ایک سو سے سوا سو روپے تک بڑھا دی گئی ہے جب كہ 1000 سی سی سے زائد كی گاڑیوں پر10 فیصد اضافی كسٹمز ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔

https://img.express.pk/media/images/q6/q6.webp

وفاقی حكومت كی جانب سے اعلان كردہ نئے ٹیكسوں كے تحت جن 61 اشیا پر پہلے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں تھی ان پر 5 فیصد سے 10 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد كی گئی ہے جس سے حكومت كو ساڑھے 4 ارب روپے كا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ اس كے علاوہ 289 اشیا جن پر پہلے سے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے ان کے لیے 5 فیصد مزید ریگولیٹری ڈیوٹی عائد كردی ہے جس كے تحت جن اشیا پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹٰی تھی جسے بڑھا كر 10 فیصد اور جن پر 10 فیصد تھی اسے بڑھا كر 15 فیصد اور جن پر 15فیصد تھی اسے بڑھا كر 20 فیصد كردیا گیا ہے۔

اس اقدام سے بھی حكومت كو ساڑھے 4 ارب روپے كا اضافی ریونیو حاصل ہوگا اس كے علاوہ تمام اشیا كی درآمد پر ایک فیصد اضافی ڈیوٹی عائد كردی گئی ہے اس سے بھی حكومت كو ساڑھے 4 ارب روپے كا اضافی ریونیو حاصل ہوگا البتہ جن اشیا پر ڈیوٹی سے چھوٹ ہے ان پر اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح زرعی مشینری، ٹیكسٹائل، ایوی ایشن ،فارما سوٹیكل اور زراعت كے شعبوں میں استعمال ہونے والے خام مال اور سبزیوں سمیت دیگر حساس اشیائے ضروریہ پر اطلاق نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں قابل تجدید توانائی، صنعتی شعبہ اور پانچویں شیڈول میں شامل اشیا پر بھی اس کا اطلاق نہیں ہوگا اسی طرح فرٹیلائزر، زرعی ادویات، بیجوں كی درآمد، اشیا كی مینوفیكچرنگ کے لیے پلانٹ و مشینری سمیت دیگر اشیا پر بھی اطلاق نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں