کراچی اسٹاک مارکیٹ منافع کیلئے قبل از عید فروخت 53 پوائنٹس گرگئے

غیرملکی سرمایہ کاروں نے 20 لاکھ 30 ہزار، مقامی کمپنیوں 3 لاکھ 74 ہزار اور میوچل فنڈز نے13 لاکھ 72 ہزارڈالرنکال لیے۔


Business Reporter October 26, 2012
47.7 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی، سرمایہ کاروں کو 16 ارب روپے کا نقصان، کاروباری حجم 5 فیصد کم، 13 کروڑ 60 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو : آن لائن

عیدالاضحیٰ کی جمعہ سے شروع ہونے والی طویل تعطیلات میں داخلی وخارجی سطح پرکوئی منفی واقعہ رونما ہونے، اینگرو کارپوریشن کے 50 فیصد کاروباری حصے کے حامل فرٹیلائزر بزنس میں ممکنہ نقصانات کے خدشات اور عدلیہ کی جانب سے انٹرنیشنل کلیئرنگ ہائوس پر حکم امتناع جاری ہونے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو مندی کے بادل چھائے رہے۔

جس کے باعث 47.72 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے16 ارب4 کروڑ19 لاکھ14 ہزار862 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعرات کی مندی میں پی ٹی سی ایل اور اینگرو کارپوریشن میں ہونیوالی فروخت نے اہم کردار ادا کیا جبکہ عمومی سرمایہ کاروں نے طویل دورانیے کی تعطیلات کے دوران امن وامان کی صورتحال کی بہتری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہولڈ شدہ حصص کوتیز رفتاری سے فروخت کیا، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر37 لاکھ77 ہزار249 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ میں مندی کے اثرات غالب رہے۔

کیونکہ غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ30 ہزار 956 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے 3 لاکھ74 ہزار165 ڈالر اور میوچل فنڈز کی جانب سے13 لاکھ72 ہزار128 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پرصرف3.28 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن پرافٹ سیلنگ کی شدت بڑھنے سے ایک موقع پر91.14 پوائنٹس کی مندی سے انڈیکس کی 15800 کی حد بھی گرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں بعض شعبوں میں خریداری کے سبب مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میںکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 52.81 پوائنٹس کی کمی کے نتیجے میں بلند ترین سطح سے نیچے آکر 15812.72 پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 63.69 پوائنٹس کی کمی سے12927.19 اور کے ایم آئی30 انڈیکس44.68 پوائنٹس کی کمی سے 27631.98 ہوگیا۔

کاروباری حجم بدھ کی نسبت5.31 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 13 کروڑ60 لاکھ 18 ہزار 900 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار341 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں162 کے بھائو میں اضافہ 161 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں آئس لینڈ ٹیکسٹائل کے بھائو16.53 روپے بڑھ کر347.28 روپے اور نیشنل فوڈز کے بھائو9.27 روپے بڑھ کر 334.05 روپے ہوگئے جبکہ سیمینس پاکستان کے بھائو37 روپے کم ہو کر 713 روپے اور مچلز فروٹ کے بھائو16.25 روپے کم ہوکر356.11 روپے ہو گئے۔