پی ایس او ریفائنری کیساتھ مشترکہ شپنگ کمپنی قائم کریگی

پی این ایس سی سے معاہدے سمیت فیول آئل بلینڈنگ ٹھیکے مکمل شفاف ہیں


Business Reporter October 26, 2012
فرم کودنیا کی 500 سرفہرست کمپنیوں میں شامل کرنے کی حکمت عملی بنا لی، نعیم یحییٰ میر فوٹو : عرفان علی / ایکسپریس

پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی اپنی ریفائنری کے ساتھ مشترکہ شپنگ کمپنی بھی قائم کرے گی۔

پی این ایس سی کے ساتھ معاہدے سمیت مقامی سطح پر فیول آئل کی بلینڈنگ کے ٹھیکے مکمل طور پر شفاف ہیں، کمپنی کو آئندہ 6سال میں دنیا کی500 سرفہرست کمپنیوں میں شامل کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او نعیم یحییٰ میر نے گزشتہ روز پی ایس او ہائوس میں میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آئل انڈسٹری میں مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع کم جبکہ تیل نکالنے والی کمپنیوں، شپنگ اور ریفائن کرنے کا کام زیادہ منافع بخش ہے، پی ایس او کو دنیا کی سرفہرست کمپنیوں میں شامل کرنے کیلیے خیبرپختونخوا میں اپنی ریفائنری 2.5 سال میں تعمیر کرلی جائیگی۔

ساتھ ہی پی این ایس سی کے ساتھ مشترکہ شپنگ کمپنی قائم کی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے منافع میں اضافے اور صارفین کی سہولت کیلیے متعدد اقدامات سے کمپنی کو اربوں روپے سالانہ کی بچت ہوگی، پی ایس او نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے دوران جنگ کے حالات میں دیے جانے والے انشورنس کے وار پریمیم کی ادائیگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سالانہ450ملین روپے کی بچت ہوگی، پاکستان میں استعمال ہونے والا پٹرول یورو ٹو معیار سے بھی کم ہے، اس لیے اس میں اضافی کیمکل اجزا کی ضرورت نہیں ہے۔

کمپنی نے پٹرول میں اضافی کیمکل اجزا کی آمیزش بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سالانہ 635 ملین روپے کی بچت ہوگی، موٹرگیسولین میں Oxygenate کی اجازت دی گئی ہے جس سے موٹرگیسولین کی سپلائی کیلیے بولی دینے والی کمپنیوں کی تعداد 5سے بڑھ کر 13ہوگئی ہے، ساتھ ہی اس اقدام سے 3ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی، کمپنی نے مڈل مین کو ختم کرتے ہوئے بیس آئل کی براہ راست درآمد کا فیصلہ کیا ہے جس سے دو کنٹریکٹ میں 11.8 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، اسی طرح پی این ایس سی کے ذریعے درآمدات کے معاہدے سے سالانہ 500 ملین روپے بچیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ کویت پٹرولیم سے ایک ملین ٹن فیول آئل براہ راست درآمد کیا جائیگا جبکہ 1.4ملین ٹن فیول آئل کی مقامی سطح پر بلینڈنگ کی جائیگی جس سے نہ صرف درآمد پراضافی اخراجات کی بچت ہوگی بلکہ ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے، پی ایس او جلد غریبوں کیلیے سوشل پمپ کے نام سے پراجیکٹ شروع کریگا جس سے غریبوں میں شیئرز تقسیم کرکے ڈیلر مارجن میں سے منافع دیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس او نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر فیول کی فراہمی کیلیے سول ایوی ایشن کے اوپن ٹینڈرمیں 1.01 روپے فی لیٹر پیشکش کی جبکہ دوسری بولی 40پیسے فی لیٹر ہے تاہم سی اے اے نے ٹینڈر شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ابھی تک پی ایس او کو پیشکش کی منظوری کا لیٹر جاری نہیں کیا۔