ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے ہارون اگر

شعبہ گروتھ ریٹ بڑھانے، روزگار کی فراہمی اور غربت میں کمی کیلیے نہایت اہم ہے.


Business Reporter October 26, 2012
شعبہ گروتھ ریٹ بڑھانے، روزگار کی فراہمی اور غربت میں کمی کیلیے نہایت اہم ہے. فوٹو: فائل

GILGIT: معیشت میں تیز رفتار افزائش اور اہم معاشی شعبوں کو متحرک کرنے کیلیے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کا فروغ اور اس شعبے میں بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کلب کو منظم کرتے ہوئے اسے صنعت کا درجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بات کراچی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے ریئل اسٹیٹ سیکٹرکے ایک نمائندہ وفد سے کراچی چیمبر میں ملاقات کے دوران کہی، وفد کی قیادت ریئل اسٹیٹ بزنس انویسٹمنٹ کلب کے صدر زاہد اقبال کر رہے تھے۔ ہارون اگر نے کہا کہ ملک میں معاشی شرح نمو میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے کیلیے یہ سیکٹر نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کم لاگت کے ہائوسنگ پراجیکٹس کی تعمیر پر زور دیا تاکہ ایک جانب متوسط طبقے کی ہائوسنگ ضروریات پوری ہو سکیںتو دوسری جانب دیہی علاقوں سے آنے والی لیبر فورس کو روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے کہا کے دنیا کہ بیشتر ممالک میں ریئل اسٹیٹ کا شعبہ قومی دولت کے بڑے حصہ پر مبنی ہوتا ہے، پاکستان میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹمبر، اینٹ سازی، عمارتی سامان سمیت 250 صنعتوں کی ترقی اور نمو میں ریئل اسٹیٹ کا بڑا کردارہے، اگر ان متعلقہ صنعتوں کو شامل کیا جائے تویہ شعبہ زراعت کے بعد دوسرا بڑا شعبہ ہے، کراچی چیمبر اپنی منتظمہ کمیٹی میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی سب کمیٹی کو شامل کرنے پر غور کرے گا۔ انہوں نے ریئل اسٹیٹ کے اراکین سے کہا کہ وہ کراچی چیمبر کی رکنیت حاصل کریں اور بحیثیت صدر کراچی چیمبر وہ انکے مسائل کے حل کیلیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

انہوں نے ریئل اسٹیٹ بزنس اینڈانویسٹمنٹ کلب کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور انہیں بجٹ تجاویز میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ زاہد اقبال نے ہارون اگر کو کراچی چیمبر کی صدارت کے منصب پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کی اور کراچی چیمبر کے ملکی اورمقامی تجارت کے فروغ میں کردار کو سراہا۔