سپریم کورٹ کی خاتون وشوہر کو ہراساں نہ کرنیکی ہدایت

کسی نے اغوا نہیں کیا اپنی مرضی سے مذہب تبدیل اور شادی کی ہے، عائشہ گھینی


Staff Reporter October 30, 2012
کسی نے اغوا نہیں کیا اپنی مرضی سے مذہب تبدیل اور شادی کی ہے، عائشہ گھینی فوٹو: راشد اجمیری/فائل

سپریم کورٹ نے ہندو مذہب سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے اور پسند کی شادی کرنے والی 17سالہ عائشہ (گھینی) اور اس کے شوہرمحمد علی کوہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اسلام قبول کرنے والی لڑکی کے 8 سالہ گمشدہ بھائی مکیش کو بازیاب کراکے رپورٹ پیش کی جائے، جسٹس انور ظہیر جمالی،جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس گلزاراحمد پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے مسماۃ سونی کی درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر ایس ایچ او گڈاپ نے بتایاکہ درخواست گزار کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلیے پولیس پارٹی سانگھڑ گئی تھی۔

عائشہ گھینی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور محمد علی سے شادی کی، پولیس افسر نے بتایا کہ لڑکی کے اغوا کی تفتیش سندھ ہائیکورٹ حیدرآبار سرکٹ بینچ نے معطل کردی تھی، مسماۃ عائشہ (گھینی) نے سندھ ہائیکورٹ میں اپنے بیان میں بھی اقرار کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور شادی کی ہے۔