شفاف انتخابات کا انعقاد اور زمینی حقائق
آیندہ الیکشن میں بنیادی کردار ووٹرز کا ہوگا جو انتخابی عمل کے حوالے سے بداعتمادی اور بیزاری کا شکار ہیں
عام ووٹر کا خیال ہے کہ اس کے ایک ووٹ سے کون سی تبدیلی آئے گی. فوٹو اے پی پی
صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ آیندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے، حکومت مفاہمتی عمل کو جاری رکھے گی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ڈائیلاگ کے عمل کو مزید بڑھایا جائے گا ۔
انھوں نے کہا وہ عوامی مسائل کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لیے آیندہ ماہ سے ملک کے تمام اضلاع کا دورہ کریں گے،جب کہ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا وعدہ حکومت پورا کریگی ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو بلاول ہائوس کراچی میں مختلف اجلاسوں سے خطاب اور ملاقاتوں میں کیا۔صدر مملکت نے انتخابات کے انعقاد کی ایک بار پھر یقین دہانی کراکے درحقیقت انتخابات کے امکانی التوا کے گمبھیر ہوتے تاثر کی نفی کی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پیدا شدہ صورتحال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے وقت مقررہ پر انعقاد کا وعدہ نہ صرف ملکی سالمیت اور جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی برادری کی نظر بھی پاکستان کے جمہوری سفر اور اس کی درست سمت پر مرکوز ہے ۔ تاہم الیکشن پرامن ماحول میں ہی ہوسکتے ہیں جب کہ ملک میں بدامنی ، دہشت گردی، امریکی ڈرون حملوں اور جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف سے ہر محب وطن شہری خوف وہراس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب طرح کی بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے جو جمہوری عمل کے لیے کسی طور نیک شگون نہیں۔
حکمران جمہوریت کو امن ،استحکام اور سماجی و معاشی ترقی سے مشروط کرکے ہی عوام کے جمہوری نظام پر اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔اس لیے ہر شخص کو اپنا فیصلہ کن ووٹ ضرور استعمال کرنا چاہیے۔مگر اس کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات کو جتنی جلد حتمی شکل دی جائے اتنا ہی بہتر ہے،چنانچہ امن و امان کے حوالے سے اجلاس میں صدر نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ کراچی میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس آیندہ15 روز میں بلایا جائے، اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، تاجر تنظیموں کے نمایندے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شریک ہوں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے کراچی میں قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر پالیسی تشکیل دینے میں تاخیر بلاشبہ نہیں ہونی چاہیے۔بہت نقصان ہوچکا ہے۔صدر نے کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن کو مزید تیز کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ کراچی میں تاجر تنظیموں اور صنعت کاروں کے تحفظات کو دور کیا جائے اور تمام صنعتی زونز اور اہم تجارتی مراکز میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔تاہم امن وامان صرف سندھ کا ابتر نہیں ،حکومت کو دہشت گردی کے نیٹ ورک اور داخلی طور پرکالعدم مگر متحرک مذہبی تنظیموں کی نگرانی اور باہمی سیاسی محاذ آرائی کے خاتمے پر بھی ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا چاہیے۔
آیندہ الیکشن میں بنیادی کردار ووٹرز کا ہوگا جن کے بارے میں اب تک ملک میں ہونے والے انتخابات کے شفاف ہونے یا نہ ہونے کے بعد عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ انتخابی عمل کے حوالے سے بداعتمادی اور بیزاری کا شکار ہیں،اور ایک عام ووٹر کا خیال ہے کہ اس کے ایک ووٹ سے کون سی تبدیلی آئے گی جب کہ دوسری طرف کسی رائے دہندہ کی سوچ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کے اکیلے ووٹ سے کسی کا کیا بگڑے گا۔تاہم یہ زمینی حقیقت ہے کہ شفاف انتخابات جمہوریت کی روح ہیں کیونکہ ووٹرز کے رویے اور دھاندلی سے پاک انتخابی عمل اور پرامن پولنگ کے نتیجے میں ہی آیندہ پارلیمنٹ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے اور انتہا پسندی سے ماورا معتدل مزاج ،روشن فکر ،اعلیٰ تعلیم یافتہ،اور نئی سوچ و قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار امیدوار جیتنے کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی کرسکیں گے۔
وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے دراصل آیندہ انتخابات کے یقینی انعقاد سے متعلق صدر کے خیالات کی تائید ہی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مارچ 2013ء کے بعد نگران سیٹ اپ قائم کردیاجائے گا، پی پی پی نے جمہوریت کی مضبوطی اور ملک میں خوشحالی کے لیے نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔ منگل کو اپنی رہائش گاہ پر پاکستان میں ناروے کے سفیر ارنا سلوبر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت حاصل کردہ کامیابیاں عام انتخابات ملتوی کرکے ضایع نہیںکرنا چاہتی بلکہ آئینی طریقہ کارکے مطابق اگلے سال 18مارچ کے بعد نگران حکومت قائم کر دی جائے گی ۔انھوں نے عالمی برادری پر زور دیاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے۔
پیپلزپارٹی مفاہمت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے اگر مفاہمت کی سیاست نہ کرتے توآج جمہوریت نہ ہوتی۔ اپنے ایک انٹرویو میں وزیراطلاعات نے اس تاثرکوسختی سے مستردکیا کہ وفاقی حکومت پنجاب کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اصغرخان کیس کے حوالے سے تحقیقات ہو گی۔انھوں نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر سے متعلق قیاس آرائیاں مخالفین کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں آزاد عدلیہ، متحرک میڈیا اور سول سوسائٹی کی موجودگی میں انتخابات میں تاخیر ممکن نہیں ۔بلاشبہ یہ خوش آیند امر ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عام انتخابات کے بہترانعقاد کے لیے تمام تر انتظامات31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں عید ملن پارٹی کے دوران افسروں سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی وقت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے تاہم انتظامات مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نومبرکے وسط میں صوبائی الیکشن کمشنرز سے انتخابات کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ لی جائے گی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال سے متعلق لائحہ عمل کوحتمی شکل دی جا سکے۔
ادھرپاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ حکمران اقتدار بچانے کے لیے ملک کو دائو پر لگا رہے ہیں،انتخابات میں تاخیر ملک کے خلاف سازش ہوگی۔ بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کا جینا محال کردیا ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ ن لیگ کی سیاست اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی ہے،تاہم حزب اختلاف کے پارلیمانی کردار کی ترجمانی کرتے ہوئے انھوں نے حکومت پر نکتہ چینی کو ذاتی دشمنی کا رنگ دینے سے گریز کیا اور وزیراعظم کے عید الاضحیٰ کے موقع پر فون کا جواب دیتے ہوئے ایک خوش گوار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔سیاسی مفاہمت، خیر سگالی کا سیاست میں ویسے بھی شدید فقدان ہے جب کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو جمہوری عمل کی کامیابی کے لیے روادارانہ رویوں کو اپنے طرز عمل کی بنیاد یہ سوچ کر بنانا چاہیے کہ ملک کو ہمہ جہتی بحرانوں کا سامنا ہے اور معاشرے میں استحکام اور امن کی ضرورت ناگزیر ہے۔
اسی تناظر میں وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں پاکستان میں انسانی حقوق کاجائزہ لیا گیا۔حنا ربانی کھر نے کہا اگرچہ پاکستان کوکئی مشکلات کا سامنا ہے جن میں سیکیورٹی ،دہشت گردی اورمعیشت کے مسائل اور قدرتی آفات شامل ہیں تاہم ان مشکلات کے باوجود پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ پر پوری طرح کاربند چلا آ رہا ہے، گزشتہ 4سال کے دوران آئینی اورقانونی ڈھانچے میں تبدیلیاںکی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکمران اپنے قول وفعل سے ملک میں قانون کی حکمرانی کے قیام ،پرامن انتخابات کے شفاف انعقاد اور ملکی ترقی و خوشحالی کے منتظر عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔