تھر میں انسانیت دم توڑ رہی ہے

علاج ومعالجےکی سہولیات کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ذمےداری ہےلیکن ایسا محسوس ہوتا ہےوہ خود کواس سےبری الذمہ جانتی ہے


Editorial January 14, 2016
حکومتی وزراء اور معاشرے کے لوگ بہرے ہوچکے ہیں،انھیں معصوم بلکتے بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دی رہی ہیں فوٹو: فائل

تھر سندھ کا وہ بد نصیب علاقہ ہے، جس کا کوئی پرسان حال نہیں، نہ حکومت کو کوئی سروکار ہے نہ اپوزیشن کو، نہ این جی اوز اپنا کوئی کردار ادا کررہی ہیں۔ جہاں غربت وافلاس نے پہلے ہی ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، وہاں موت نے آن بسیرا کیا ہے، اخباری اطلاعات کے مطابق تھرپارکرمیں بھوک اور بیماری نے مزید تین معصوم بچوں کی جان لے لی، سندھ حکومت اسپتالوں اور ڈسپنسریز میں فنڈز اور سہولتیں مہیا نہ کرسکی ۔ ادھرکمشنر نے ایک گھوسٹ ڈسپنسرکو معطل کردیا ہے۔

علاج ومعالجے کی سہولیات کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ذمے داری ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے، وہ خود کو اس سے بری الذمہ جانتی ہے، جب ہی حکومتی وزراء کے بیانات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا باعث بنتے ہیں،گزشتہ سال بھی تھر میں سیکڑوں جانیں علاج ومعالجے کی سہولت نہ ہونے اور دواؤں کی عدم فراہمی کے سبب سے ضایع ہوئی تھیں ۔

میڈیا تو ایسے واقعات کو نمایاں طور پر شایع اور نشرکرتا رہتا ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے، تھرپارکر میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد رواں ماہ ہلاکتوں کی تعداد 32 جب کہ 70 بچے تھر کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں،کیا یہ اعداد وشمار اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ تھر میں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور ہم سب سفاک اور بے رحم ہوچکے ہیں،کوئی ان کی مدد کے لیے وہاں نہیں پہنچ رہا، غیرسرکاری فلاحی تنظیمیں بھی تھر میں جاکر دکھی انسانیت کی خدمت کرنے سے نا جانے کیوں کترا رہی ہیں، دوسری طرف سندھ حکومت کی جانب سے نہ تو اسپتالوں کو اس ضمن میں فنڈز جاری کیے جا سکے اور نہ ہی ڈسپنسریزکے بجٹ اور انھیں فعال کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے جا سکے ہیں۔

اسے کہتے ہیں بیڈگورننس کا شاخسانہ، مارا بیچارا غریب ہی جاتا ہے، لیکن اس کے لیے ہمدردی کے دوبول بولنے والا کوئی نہیں ہوتا ، تھر میں بھوک ، غربت اور علاج کے بغیر موت کے منہ میں چلے جانے والے بچوں کی جانیں اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی طبقہ اشرافیہ کے بچوں کی ۔ ہم ایک مردہ سماج میں رہ رہے ہیں، جس میں انسانی قدریں دم توڑ چکی ہیں ، معصوم بچوں کی ماؤں کی آہ وفغاں سے تو عرش بھی لرز جاتا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی وزراء اور معاشرے کے لوگ بہرے ہوچکے ہیں،انھیں معصوم بلکتے بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دی رہی ہیں ۔خدارا تھر میں سسکتی ہوئی انسانیت کو بچا لیجیے۔