براعظم ایشیا میں ترقی کا سفر

براعظم ایشیا بھی ترقی کی دوڑ میں بڑی تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے


Editorial November 02, 2012
صنعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اوراس کے پھیلائو نے امریکا اور یورپ کو خوشحال بنا دیا ہے۔ فوٹو: فائل

قومی ترقی میں صنعت و تجارت کے شعبے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

صنعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اوراس کے پھیلائو نے امریکا اور یورپ کو خوشحال بنا دیا ہے۔ آج امریکا اور یورپ کی ملٹی نیشنل کمپنیاں صنعتکاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث کھربوں ڈالر کما رہی ہیں۔ خوش کن امر یہ ہے کہ براعظم ایشیا بھی ترقی کی دوڑ میں بڑی تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور یہاں صنعتوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ایشیا میں جاپان نے قابل رشک ترقی کی' جاپانی مصنوعات معیاری اور مناسب قیمت کے باعث نہ صرف ایشیائی مارکیٹ میں چھا گئیں بلکہ انھوں نے یورپی منڈی میں بھی ہل چل مچا دی۔ جاپانی کاریں' الیکٹرانک سامان اور دیگر مشینیں عالمی منڈی میں یورپی مصنوعات پر سبقت لے گئی ہیں۔

جاپان نے چند عشروں میں بے مثال ترقی کی نتیجتاً آج جاپان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا ہے۔ براعظم ایشیا میں جاپان کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا نے بھی صنعتی ترقی کے میدان میں اپنے قدم جما لیے۔جنوبی کوریا اس وقت تیز رفتاری سے ترقی کررہا ہے۔ ایشیا میں ان دو ممالک کے علاوہ چین نے تو پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور چینی مصنوعات سستی ہونے کے باعث جاپانی مصنوعات کو بھی پیچھے چھوڑ گئیں۔عوامی جمہوریہ چین اس وقت ایشیا ہی نہیں دنیا کی بڑی معاشی طاقت ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ ایشیا میں ترقی کا سفر جاری ہے تو اس وقت جہاں یورپ خاص طور پر یورو زون میں بیروز گاری کی شرح بلند ترین سطح 11.6 فیصد پر آ گئی ہے۔اس کے برعکس ایشیا میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایشیا میں مینو فیکچرنگ کا شعبہ پہلے کی نسبت مزید مضبوط ہوا ہے۔

میڈیا میں شایع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق چین میں پیداواری سرگرمیاں گزشتہ 3 ماہ میں پہلی بار بڑھیں جس سے خطے میں معاشی سست روی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی کوریا' تائیوان اور بھارت میں بھی پیداواری سرگرمیوں میںاضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چین میںپرچیزنگ منیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) 50.2 تک جا پہنچا جب کہ بھارت میں پی ایم آئی کی سطح ستمبر کی 52.8 کے مقابلے میں اکتوبر کے دوران 52.9 ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب پاکستان میں صنعت و تجارت میں ترقی کا گراف چین' سنگا پور' ملائشیا' بھارت' انڈونیشیا اور ایشیا کے دیگر ممالک سے بہت نیچے ہے۔ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ' پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلی' سرکاری محکموں میں بدعنوانی اور امن و امان کی مخدوش صورتحال نے صنعت و تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہاں مینو فیکچرنگ کا شعبہ کمزور ہوا ہے' جس سے بے روز گاری میں اضافہ ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں سست روی آئی ہے۔بے یقینی کا شکار ہونے کے باعث سرمایہ کاروں نے مزید سرمایہ کاری سے ہاتھ روک لیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ لانے کو تیار نہیں۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار سرمائے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی لے کر آتا ہے جس سے صنعتی ترقی کو مہمیز ملتی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل' ہربل ادویات' چاول' پھل' آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان کے شعبوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔

حکومت توجہ دے تو مشرق وسطی' وسط ایشیا' روس'یوکرائن سمیت دیگر ممالک پاکستانی مصنوعات کے لیے بڑی منڈی بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں پیدا ہونے والا چاول' کینو، کپاس اور دیگر زرعی اجناس اپنی اعلیٰ کوالٹی کے باعث پوری دنیا میں پسند کیے جاتے ہیں۔ یو کرائن کے سفیر ولادو میرلاکوموف نے پاکستانی تاجروں کو انجینئرنگ سیکٹر میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اب حکومت پاکستان پر لازم آتا ہے کہ وہ یہاں انرجی بحران پر قابو پائے اور صنعتی ترقی کے لیے جامع پالیسی وضع کرے تاکہ پاکستان بھی ایشیا کے دیگر ممالک کے شانہ بشانہ ترقی کے میدان میں پیشرفت کر سکے۔ایک دور وہ بھی تھا جب پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کی باتیں ہورہی تھیں، لیکن اب حالات یہ ہیں کہ پاکستان تھائی لینڈ ، بھارت اور ملائیشیا کی نسبت کم ترقی یافتہ ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاشی اہداف کا تعین کرنا چاہیے۔