گردوں کی خریدوفروخت روکنے کیلیے اقدامات کی ضرورت

عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں سے گردوں کے کاروبار کے...


Editorial July 19, 2012
عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں سے گردوں کے کاروبار کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے

سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں کو انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے رولز بنانے اور گردوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے سخت اقدامات کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں سے گردوں کے کاروبار کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور آر پی او راولپنڈی کو حکم دیا ہے کہ ایک ریٹائرڈ کرنل کے زیر سرپرستی گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث اسپتال کا دورہ کرکے تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گردوں کی خرید و فروخت اور غیرقانونی پیوند کاری کے خلاف پٹیشن کی سماعت کی جو عاصمہ جہانگیر نے دائر کی تھی۔ وفاقی ڈائریکٹر جنرل شعبہ صحت قاضی عبدالصبور نے بتایا کہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے رولز بنا دیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا قانون بن گیا لیکن گردوں کا گھنائونا کاروبار جاری ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے گردوں کے کاروبار کے حوالے سے جو ریمارکس دیے گئے ہیں اور اس کاروبار کو روکنے کے سلسلے میں چاروں صوبائی حکومتوں کو جو ہدایات جاری کی ہیں ان کے درست اور صائب ہونے کے بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں گردوں اور دیگر انسانی اعضاء کی خرید و فروخت اور غیرقانونی پیوند کاری کا کاروبار دن بدن بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔ انتہائی افسوسناک و تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اکثر اس گھنائونے کاروبار کے مرکزی کردار طب سے وابستہ لوگ نکلتے ہیں ظاہر ہے جن کے لیے انسانی جان یا انسانی تکلیف کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ زیادہ تر افراد کے گردے چوری کیے جاتے ہیں یعنی انھیں کسی اور مرض کے علاج کی خاطر آپریشن کا کہا جاتا ہے لیکن آپریشن کے دوران یعنی ان کی بے ہوشی کی حالت میں ان کا گردہ نکال لیا جاتا ہے جو بعد ازاں بھاری قیمت پر متمول ضرورت مندوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

وفاقی ڈائریکٹر جنرل شعبہ صحت کا کہنا ہے کہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے رولز بنا دیے گئے ہیں۔ ان کی بات درست ہے اس کے باوجود اگر گردوں اور دیگر انسانی اعضاء کی خرید و فروخت ہو رہی ہے یا ان کی غیرقانونی پیوند کاری جاری ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان رولز پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا گیا جرائم پیشہ عناصر جس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور واضح ہے کہ جب تک ایسا گھنائونا اور قبیح کاروبار کرنے والوں پر کڑا ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا اس وقت تک صورتحال میں بہتری کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے بنائے گئے رولز پر عمل درآمد اسی وقت یقینی بنایا جا سکے گا جب ان لوگوں کی داد رسی کی جائے گی جن کے گردے دھوکے سے چوری کیے گئے اور جب ان لوگوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا جو اس انسانیت سوز کاروبار میں ملوث ہیں۔ اس کام کا آغاز عدالت کے اس حکم پر عمل درآمد سے ہونا چاہیے جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں سے گردوں کے کاروبار کے حوالے سے رپورٹ طلب کی گئی ہے امید ہے یہ رپورٹ جلد از جلد مرتب کر لی جائے گی کیونکہ یہ بہت سی انسانی جانوں کا معاملہ اور مسئلہ ہے۔

ایک ریٹائرڈ کرنل کے زیر سرپرستی گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری میں ملوث اسپتال کا معاملہ بھی ایک ٹیسٹ کیس ہے جس کی مکمل تحقیقات ہونا چاہیے تاکہ ان لوگوں کو نشان عبرت بنایا جا سکے جو انسانی جانوں اور جذبات سے کھیلتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو اعضاء کی پیوند کاری کے حوالے سے بنائے گئے قوانین اور رولز کے نفاذ پر بھرپور توجہ دینا چاہیے۔