پاک بھارت مذاکراتی عمل شروع ہونا چاہیے

پاکستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے


Editorial February 01, 2016
پاکستان نے پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کیا ہے اور یہ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے میں ایک عرصہ درکار ہو گا۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات کے بارے میں کہا کہ بھارت سے معاملات اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے تھے، ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت کی وزیرخارجہ نے شرکت کی، بعد میں نریندر مودی بھی آئے لیکن پٹھان کوٹ حملے نے مذاکرات کے عمل کو ٹھیس پہنچائی، واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہے، اس واقعے کی جڑ تک جائیں گے، بہت جلد تفتیش کے نتائج قوم کے سامنے آ جائیں گے، آپریشن ضرب عضب سے دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، دہشت گرد حالیہ واقعات سے اپنی موجودگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں میں یہ سکت بھی ختم کر دی جائے گی، پاکستان نے ایران اور سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے خود آگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا، بین الاقوامی برادری میں ہماری ان کوشوں کو سراہا گیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوںکے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے دورے کیے۔

حیرت انگیز امر ہے کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو کر ان کوششوں کو سبوتاژ کر دیتا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی فضا ایک بار پھر قائم ہو جاتی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ہر ممکن یہ کوشش رہی ہے کہ بھارت سے بہتر تعلقات قائم کیے اور تجارتی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے جس سے پورے خطے کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے اپنے سابق دور حکومت میں بھی بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا ڈول ڈالا اور ان کی دعوت پر بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان تشریف لائے جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ دونوں ممالک باہمی تنازعات بات چیت کے عمل کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کئی عشروں سے قائم دشمنی کی فضا دم توڑ جائے گی مگر ان کی یہ کوششیں پروان نہ چڑھ سکیں۔

اب پھر ان کی کوششوں کی بدولت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان تشریف لائے جس سے ایک بار پھر اس امید نے جنم لیا کہ دونوں ممالک دشمنی کے کانٹوں کو چن کر پرامن راستے تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر پٹھانکوٹ کے حملے نے ان امیدوں کو کنارے لگا دیا۔یورپی ممالک کی مثال سب کے سامنے ہے کہ انھوں نے حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھا اور یورپی یونین تشکیل دی جس سے وہاں معیشت کی ترقی کو مہمیز ملی اور بیروز گاری پر قابو پانے میں خاطر خواہ مدد ملی۔آج یورپی یونین میں شریک ممالک نہ صرف معاشی ترقی میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف بھی متحد ہو چکے ہیں۔ اسی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم ہوں۔

پاکستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اب پاکستان اور ایران نے 19ویں پاک ایران جوائنٹ بارڈر سیشن کے اختتام پر غیر ملکی تارکین وطن کے داخلے' سرحدی سیکیورٹی میں بہتری' دہشت گردی' منشیات اور اسمگلنگ کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالرز سے زائد بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، دونوں ممالک نے باہمی رابطوں کے فروغ پر زور دیا' خوش کن امر یہ ہے کہ ایران نے گوادر کے ذریعے پاکستان کو یورپ تک تجارتی رسائی کے لیے اپنی بندر گاہ چاہ بہار تا گوادر ریلوے لائن بچھانے کی تجویز بھی دی جس کا ابتدائی سروے جلد شروع ہو گا۔

اگر سارک ممالک' ایران اور افغانستان باہمی رابطوں کو مضبوط بنا کر ایک دوسرے کو تجارتی رسائی کے مواقعے فراہم کرتے ہیں تو اس سے پورے خطے میں معاشی انقلاب برپا ہو سکتا اور یہ ترقی کے میدان میں یورپی یونین سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔ یہ خطہ ہنر مند افرادی قوت کے علاوہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔

تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کا آغاز ہو گا تو اس امر کا خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ پھر کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو کر ان کوششوں کو پیچھے دھکیل دے گا لہٰذا دونوں ممالک کی حکومتوں کو یہ طے کرنا ہو گا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، ان کا یہ عزم ہی امن دشمن قوتوں کے مذموم ارادوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ پاکستان نے پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کیا ہے اور یہ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے میں ایک عرصہ درکار ہو گا لہٰذا پاک بھارت حکومتوں کو کسی بھی مسئلے کو آڑ بنانے کے بجائے مذاکراتی عمل کے ٹوٹے ہوئے سلسلے کو پھر سے شروع کر دینا چاہیے کیونکہ یہی راستہ اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کی نوید ہے۔