ملک میں قیام امن کے لیے جنرل راحیل شریف کا عزم

ملک کو جس انارکی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے خلاف سیکیورٹی ادارے اور بطور خاص پاک افواج سرگرم عمل ہیں


Editorial February 04, 2016
مسائل کے حل تک اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ مل جل کر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک ترقی نہ کرسکے۔ فوٹو:فائل

ملک کو جس انارکی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے خلاف سیکیورٹی ادارے اور بطور خاص پاک افواج سرگرم عمل ہیں، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب نے شرپسندوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ منگل کو کوئٹہ میں خوشحال بلوچستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا بالکل صائب تھا کہ پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن قائم ہوگا، تاہم ریاستی اداروں اور عوام کی شرکت کے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عوام قوم کی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی شمولیت کے بغیر ملک ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوسکتا، ریاستی اداروں اور عوام کی باہمی شرکت سے نہ صرف امن کا قیام بلکہ ترقی کی منازل طے کرنے میں مہمیز مل سکتی ہے۔ کسی بھی ایک یونٹ کو کمزور پاکر شرپسند عناصر اپنا وار کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ خارجی دشمن دہشت گردوں کو پناہ، تربیت اور مدد فراہم کرتے ہیں، دہشت گردوں کو باہر سے فنڈنگ،تربیت اور اندر سے حمایت مل رہی ہے۔

آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جو ملک سے دہشت گری ختم کرکے دم لے گی، آپریشن ضرب عضب کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قومی سلامتی اور استحکام کے لیے سرحدوں کو کنٹرول کرنا اہم چیلنج ہے، ایسی صورتحال میں نہیں جانا چاہتے کہ جس سے صوبہ مشکل صورتحال سے دوچار ہو۔ بلوچستان کو ایک عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور انارکی کا سامنا ہے جہاں ریاست مخالف عناصر سرگرم ہیں اور عوامی جذبات کو بھڑکا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔

ایسے میں خوشحال بلوچستان سیمینار میں آرمی چیف کا خطاب نہایت مثبت ہے جس سے بلوچستان کے عوام کے ابہام اور شکایات کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے، بلوچ نوجوانوں کے لیے ترقی کی راہیں کھل چکی ہیں، بلوچستان سے 18 ہزار نوجوان آرمڈ فورسز میں خدمات انجام دے رہے ہیں جب کہ پاک فوج 25 ہزار طلبا کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہی ہے۔ بلاشبہ بلوچستان میں سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث عوام بے چین تھے لیکن حکومت کی مسلسل توجہ بلوچستان کی ترقی پر مرکوز ہے۔

بلوچستان میں 632 کلومیٹر طویل سڑکوں کا قیام خوش آیند ہے جب کہ پاک چین راہداری منصوبہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ سے صوبے کی حالت بدل جائے گی، اور اگر ریکوڈک اور گوادر پورٹ کو صحیح طریقے سے آپریشنل کردیا جائے تو ہمارا ملک دوسرے ممالک کو قرض دے رہا ہوگا۔ غیر ملکی مخالفین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، بلوچستان کئی قوتوں کی علاقائی و عالمی حکمت عملی کے لیے پراکسی لڑائیوں کا ہاٹ بیڈ بن چکا ہے۔

ایسے میں ملکی سالمیت کے لیے فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، کوسٹ گارڈز، لیویز اور سب سے بڑھ کر بلوچستان کے عوام نے غیر متزلزل عزم کے ساتھ تحفظ کیا ہے جس کے لیے وہ خصوصی ستائش کے مستحق ہیں۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا صائب ہے کہ طاقت کے استعمال سے تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اس سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، اکثر ایسے لوگوں کو بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، عوام اور ریاستی اداروں کی شمولیت بلوچستان کی خوشحالی کے لیے درست راستہ ہے۔ کوئٹہ میں این یو ایس ٹی (نسٹ) یونیورسٹی کیمپس قائم کرنے کا اعلان بھی خوش آیند ہے۔ مسائل کے حل تک اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ مل جل کر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک ترقی نہ کرسکے۔