پی آئی اے بحران تدبر کا امتحان

نج کاری کے خلاف پی آئی اے احتجاج میں پائلٹس اور انجینئرنگ عملہ کی شمولیت سے معاملہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے


Editorial February 04, 2016
پی آئی اے کو بچانا ہے۔ احتجاجی حکمت عملی سے زیادہ مکالمہ کی سمت جانے کی ضرورت ہے ۔ فوٹو؛ فائل

لاہور: وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے نام پر سیاست ہو رہی ہے ، سیاسی جماعتیں بحران کی پشت پناہی کر رہی ہیں لہٰذا اپوزیشن قومی نوعیت کے ایشو پر سیاست نہ کرے، ملک میں ہڑتال اور دھمکیوں کا کلچر قبول نہیں کیا جائے گا، ڈیوٹی پرنہ آنے والے ملازم کو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا، پی آئی اے کا یومیہ خسارہ 10 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے اور ادارے کو اس حالت میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے جب کہ دوسرا رخ ادارہ کے مستقبل اور جمہوری حکومت کے فوری دانشمندانہ فیصلہ کی نتیجہ خیزی سے مشروط ہے۔

پی آئی اے کا پیدا شدہ بحران بلاشبہ اپنی سنگینی کے اعتبار سے چشم کشا ہے جسے الم ناک سوالیہ نشان کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ملک کی پرائم اور بین الاقوامی شناخت کی حامل ایئر لائن کو درپیش ایک درد انگیز صورتحال کا سامنا ہے ، حالات قابو سے باہر نہ جاتے اگر معاملہ کو افہام و تفہیم اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا کیونکہ ملازمین ادارہ کا ہی حصہ و اثاثہ ہیں، ان کی کارکردگی سے متعلق مسائل کا حل بھی بات چیت میں ہے ۔

کیا ہمارے ہاں مکالمہ میں طاق ارباب ہنر کا کال پڑگیا ہے؟ یا مسئلہ کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے روکنے کی کوئی حکمت موجود نہیں ہے ، جب کہ پیدا شدہ صورتحال حکومت ، پی آئی اے انتظامیہ اور محنت کشوں کی تنظیموں کے نمایندوں اور پالپا کے ساتھ فوری اور نتیجہ خیز و پائیدار بات چیت کی متقاضی ہے۔ حکومت نے نج کاری چند ماہ کے لیے ملتوی کر کے احسن فیصلہ کیا مگر اسی دوران ملازمین کی تنظیموں سے بات چیت کی کوئی سبیل نکالی جاتی تو ہلاکت خیز ہنگامہ آرائی نہ ہوتی، مسئلہ کے حل کی کلید حکومت کے پاس ہے ۔

حکام سے نج کاری سمیت ادارہ کو درپیش خطیر بحران اور انتظامی مسائل کی اندوہ ناک صورتحال ڈھکی چھپی نہیں، کئی سال سے پی آئی اے کی پرواز میں کوتاہی پر ہر محب وطن شہری حیران ہے۔ دنیا میں ایوی ایشن بحران بھی کوئی انوکھی چیز نہیں، کئی ترقی یافتہ ممالک نے اپنی فضائی کمپنیوں کی نج کاری کی ہے مگر ماہرین روس، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکا سمیت کئی ممالک کے حوالے دیتے ہیں جہاں نج کاری بھی شفاف نہ ہونے کے باعث بد انتظامیوں کے شاہکار مظاہر دیکھنے میں آئے جب کہ بعض ممالک میں حکومتی تحویل سے نجی شعبہ کی فعال نگرانی اور ماہرانہ انتظامی میکنزم میں آجانے کے بعد وہ فضائی کمپنیاں منافع دینے لگیں بہر حال اس میں کلیدی عنصر بیمار یونٹوں کو مزید کمزور انتظامیہ کے سپردکرنا نہیں بلکہ ڈیل میں شفافیت ،فلائٹ آپریشن میں پیشہ ورانہ اہلیت اور اعلیٰ درجہ کی کارکردگی ہے۔

پی آئی اے کے حادثہ کی بھی وقت نے برسوں پرورش کی ہے۔ ادارہ کو زوال سے روکنے میں غفلت برتی گئی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پی آئی اے کو درپیش مسائل اور نج کاری کے امور اور تنازع کے تناظر میں حقیقی معروضی صورتحال کا ارباب اختیار اور ملکی ایوی ایشن ماہرین سے زیادہ اور کس کو ادراک ہوگا لیکن افسوس! دنیا سے رابطہ اور قومی پرچم کو ''باکمال لوگ لاجواب سروس'' کے دلکش سلوگن سے سر بلند رکھنے والی ایئر لائن ایک الم ناک گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔

اس کا جلد کوئی حل تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے اس میں تاخیر سے شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔نج کاری کے خلاف پی آئی اے احتجاج میں پائلٹس اور انجینئرنگ عملہ کی شمولیت سے معاملہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے، ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ کیے جانے سے مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔

ارباب اختیار پیدا شدہ صورتحال کا ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لیں، ادارہ میں لازمی سروس کے قانونی نفاذ کے بعد صورتحال بدلی ہے ، ممکنہ حکومتی کریک ڈاؤن اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے اور مذاکرات کا تاحال کوئی فیصلہ نہ ہونے کے باعث الم ناک واقعات پیش آئے ۔ منگل کو کراچی میں پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے دوران شیلنگ ، لاٹھی چارج اور پر اسرار فائرنگ سے 2 افسران جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے، پی آئی اے کی نج کاری کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔

صورتحال سے بیرون ملک جانے والی فلائٹ آپریشنز بھی متاثر ہوئی ہیں، جب کہ چیئرمین پی آئی اے ناصر جعفر کے مستعفی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ معروضی حقیقت یہ ہے کہ سول ایوی ایشن ڈویژن کی سمری کی منظوری کے بعد پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ 1952ء لاگو کردیا گیا ہے، ایکٹ کے تحت ملازمین ہڑتال نہیں کرسکیں گے جب کہ ملازمین کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے اپنا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پی آئی اے کا فضائی آپریشن بند رکھنے کا اعلان کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کرے ۔اب بھی ضرورت طاقت کے استعمال سے زیادہ معاملہ فہمی کی ہے، حالات تشویش ناک ہیں، اپوزیشن جماعتیں مائل بہ احتجاج ہیں ، جو ملازمین ہلاک ہوئے ہیں ان کی ہلاکت اور فائرنگ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں سے بھی استدعا ہے کہ وہ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیں۔ یہ ان کے رزق کے وسیلہ اور ملک کی درخشندہ فضائی کمپنی کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اس چیلنج سے حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی دونوں کا سرخرو ہوکر نکلنا ضروری ہے ۔ پی آئی اے کو بچانا ہے۔ احتجاجی حکمت عملی سے زیادہ مکالمہ کی سمت جانے کی ضرورت ہے ۔

حکومتی وزراء و نج کاری کمیشن ، یونینز کے نمایندے ، پی آئی اے کے انتظامی عہدیدار اور ایوی ایشن افسران ہنگامی صورتحال کے تحت بات چیت کو یقینی بناتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، اب بھی مخدوش صورتحال کی فوری اصلاح اور دانشمندانہ اقدامات کی زبردست گنجائش ہے تاکہ نج کاری کے حوالہ سے ادارے کو درپیش خدشات اور تحفظات کا کافی و شافی جواب دے کر ملازمین کے جوش کو ٹھنڈا کیا جائے ، چنانچہ انتہائی اقدام سے پہلے قومی ایئر لائن کے استحکام کو لاحق خطرات سے بچانے کی ایک بھرپور کوشش ہونی چاہیے۔

اس کے لیے ضرورت ہے کہ معاملات کے حل کے لیے کثیر جہتی مذاکرات کو یقینی بنایا جائے ، اور انتہائی تدبر و حکمت، افہام و تفہیم اور سنجیدگی کے مکالمہ کا آغاز کیا جائے ۔ عالمی ساکھ کی حامل قومی ایئر لائن فوری توجہ مانگتی ہے، ملک ہنگاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کا ادراک حکومت، پی آئی اے کی انتظامیہ ، ہڑتالی ملازمین اور ان کی تنظیموں کے قائدین کو بھی ہونا چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اجتماعی دانش اپنا راستہ بنائے گی اور فریقین ادارہ کے عظیم تر مفاد میں بات چیت سے ہی پی آئی اے کی نجکاری کے مسئلہ پر کسی خوشگوار فیصلہ پر پہنچیں گے۔

وفاقی حکومت ، پی آئی اے انتظامیہ اور پالپا سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ جانے دیں یہی صائب مشورہ پیدا شدہ ملکی صورتحال میں فریقین کو دیا جاسکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان پی آئی اے کے بحران سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا فوری اعلان کیا جائے گا تاکہ ایک متفقہ حل ادارہ کے مستقبل پر لگے ہوئے سوالیہ نشان کو مٹا دے ۔