کراچی بدامنی کیس عدالت عظمیٰ کا عبوری حکم

کراچی میں پولیس میں سیاسی بنیادوں پر اہلکاروں کی تقرری اور فرائض سے غفلت نے یہ دن دکھائے ہیں


Editorial November 04, 2012
35 خطر ناک ملزموں کی پیرول پر رہائی حکومت سندھ کی بدنیتی ہے،سپریم کورٹ۔ فوٹو : ایکسپریس/فائل

مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے ہفتے کو کراچی بدامنی از خود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق معاملے پر 8 صفحات پر مشتمل عبوری حکم جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے آخری سماعت پر دیئے گئے اپنے احکامات برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کراچی میں طالبان سمیت تمام مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 35 خطر ناک ملزموں کی پیرول پر رہائی حکومت سندھ کی بدنیتی ہے' ان ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ حکومت سندھ اختیارات سے تجاوز کرنے پر جواب داخل کرے۔ حکومتی روش سے کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا' ٹارگٹ کلنگ کی رپورٹ الارمنگ ہے' پولیس رینجرز اور دیگر ایجنسیز باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پولیس و دیگر متعلقہ حکام کراچی میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کریں۔

اسی کیس میں منگل کو بھی سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں امن و امان کے لیے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی جی بغیر اسکواڈ شہر کے4چکر لگائیں اور ڈر لگتا ہے تو عہدہ چھوڑ دیں۔ یہ ریمارکس کراچی کی خراب صورتحال کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔ کراچی میں جاری بدامنی کو مدنظر رکھیں تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اپنے فرائض پوری طرح انجام نہیں دے رہے۔ حقائق وشواہد اور تحقیقاتی رپورٹوں سے بھی ایسا ہی تاثر ملتا ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر اہلکاروں کی تقرری اور فرائض سے غفلت کی علت نے یہ دن دکھائے ہیں۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ شہرکراچی جرائم پیشہ افراد کے لیے جنت بناہوا ہے، اسٹریٹ کرائمز سے لے کر ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کرنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی نمایاں نظر آتی ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران میں جسٹس جمالی نے کہا تھا کہ کراچی میں پہلے توکچھ علاقے نوگوایریاز تھے، اب پورا شہرنوگو ایریا ہے۔بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ کراچی کے محلوں میں بھی سیاسی ولسانی جماعتوں نے سرحدیں بنا دی ہیں ۔

چند گلیوں پر ایک گروپ کا قبضہ ہے تودوسروں پر مخالف والی صورتحال نے غریب سے زندگی کی ضمانت چھین لی ہے۔کیونکہ غلطی سے ایک عام شہری دوسرے علاقے میں چلاجائے تو بوری بند لاش واپس آتی ہے، یہ ایسی صورتحال ہے، جس میں عوام تو مارے جارہے ہیں لیکن ریاست اس کی ذمے داری لینے کے لیے تیار نظر نہیں آتی ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی شہر میں مختلف قسم کے مافیازکا راج ہے اورشہری سسک کر جی رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یوم عشق رسولؐ پرشہر کے وسط میں بینک اورسینما جلادیئے گئے،اس سے پہلے گھنٹوں لوٹ مار ہوتی رہی، قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے؟ کراچی بدامنی کیس میں فاضل جج صاحبان نے اپنے ریمارکس اور عبوری حکم نامے میں بہت سے پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے' 35 خطر ناک ملزموں کی پیرول پر رہائی کا معاملہ بھی بہت سے معاملات کو آشکار کرتا ہے۔

ابھی تک اس حوالے سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان کی رہائی کے پس پردہ کون سے کردار تھے لیکن یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ریاستی اختیارات کا استعمال کرنے والوں نے ایسا کرکے عوام کے مفادات کے خلاف کام کیا ۔ اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے' اس حقیقت سے سب لوگ آگاہ ہیں'کراچی میں جاری قتل غارت محض ایک شہر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے پاکستان کا مفاد وابستہ ہے۔ کراچی میں امن پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کراچی میں امن بحال کیسے کیا جائے؟ عام طور پر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بدامنی کے ذمے دار ہیں' اس حوالے سے ایک قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ جب حکومتی سطح پر مصلحت اندیشی اور پسند و ناپسند کا کلچر ہو گا تو ریاستی ادارے اپنا کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے طالبان کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے' اس سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ کراچی میں طالبان عنصر بھی موجود ہے۔ کراچی کیونکر بندر گاہ ہے' اس لیے یہاں القاعدہ' طالبان اور د یگر سیاسی و لسانی گروہوں کی موجود خارج از امکان نہیں ہے۔ ایک اور پہلو یہ بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے' جس کی جانب سے کئی سنجیدہ لوگ اشارہ کر رہے ہیں کہ کراچی میں انڈر ورلڈ اور طالبان ٹائپ گروپوں کے درمیان مفاداتی لنک بھی موجود ہے۔اسی طرح نسلی اور لسانی گروہوں کے لوگ بھی جرائم میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز،جیب تراشی، رہزنی، چوری ، ڈکیتی اور ذاتی دشمنی میں قتل کی وارداتیں عام جرائم کی فہرست میں شامل ہیں،ایسے جرائم کو روکنا الگ بات اور نظریاتی گروہوں کی قتل و غارت پر قابو الگ ایشو ہے۔نظریاتی گروہوں پر قابو پانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

نظریاتی گروہ حکومت' بیورو کریسی ، پولیس ، کاروباری برادری اور عوام میں بھی اپنے ہمدرد رکھتے ہیں۔یہ لوگ ان کی آڑ میں ہی واردات کرتے ہیں۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ کراچی کو قتل و غارت اور بدامنی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ جرائم پیشہ مافیاز کے ساتھ ساتھ ان گروہوں کو فوکس کیا جائے جو ریاستی اداروں کو مفلوج کرنے کا باعث بن رہے ہیں' جب تک نظریاتی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچا نہیں جائے گا۔ کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اب سندھ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اقدامات کرنے چاہیے تاکہ کراچی کی رونقیں بحال ہوسکیں۔