پاک چین اسٹرٹیجک مذاکرات

افغان جنگ سے اس خطے میں چین کے مفادات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں


Editorial November 04, 2012
چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا معترف اور خطے میں امن کا خواہاں ہے. فوٹو: فائل

پاکستان اور چین کے درمیان اسٹرٹیجک مذاکرات کا پانچواں دور بیجنگ میں ہوا جس میں دونوں ممالک نے امن و امان کے قیام' اسٹرٹیجک مذاکرات جاری رکھنے اور افغان حکومت کی مدد کے ساتھ افغانستان میں سیاسی مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی اور وہاں ہونے والی لڑائی سے اس کے ہمسایہ میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ڈرون حملوں' بم دھماکوں اور دہشت گردی کی وارداتوں نے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال اور معیشت کو شدید طور پر مجروح کیا ہے۔ پاکستان نے بارہا امریکی حکام سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر امریکا اس پاکستانی مطالبے کو ماننے سے انکاری ہے۔جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس امریکی اور نیٹو فوج اتنے سال تک افغان طالبان سے نبرد آزمائی کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔پاکستان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ افغانستان میں امن و امان قائم اور خطے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

افغان جنگ سے اس خطے میں چین کے مفادات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا معترف اور خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ چین پاکستان کا بہترین دوست ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ افغان حکومت بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ امریکا اور افغان حکومت اگر خطے میں حقیقی معنوں میںامن اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انھیں پاکستان کی مشاورت اور شرکت سے امن پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا سے ہر ممکن تعاون کر رہا ہے مگر امریکا پاکستان کی جدوجہد اور قربانیوں کا معترف ہونے کے باوجود اس کے مطالبات نظر انداز کرتے ہوئے اس پر دبائو بڑھانے کے لیے ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کرنے پر تلا ہوا ہے۔

اس سب کے باوجود پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لیے سیاسی طور پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے افغان امن عمل میں روس کو بھی شریک کرنے کے لیے اسلام آباد میں کانفرنس منعقد کرنے کی کوشش کی جو روس کی عدم شمولیت کے باعث منعقد نہ ہو سکی۔ اب پاکستان نے چین کے تعاون سے اس خطے میں امن کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے پیشرفت کی ہے۔ بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر پاکستان نے چین کو امن و امان کے لیے اپنی کوششوں اور افغانستان میں سیاسی مفاہمت کے لیے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کی موجودگی امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان' چین' روس اور افغان حکومت ایک مشترکہ سیاسی مفاہمتی کمیٹی تشکیل دیں اور خطے میں امن کے لیے مل کرکام کریں لیکن یہ کوششیں اس وقت تک نتیجہ خیز اور دور رس نتائج کی حامل نہیں ہو سکتیں جب تک امریکی اور نیٹو فورسز کا افغانستان سے انخلا نہیں ہوجاتا۔ پاکستان اور چین نے افغان حکومت کی مدد سے افغانستان میں سیاسی مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جن کوششوں کا آغاز کیا ہے اسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔