مہنگائی میں ریکارڈ کمی کا دعویٰ

ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور رواں مالی سال کے آخر تک مہنگائی کی شرح ساڑھے چار فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے


Editorial February 06, 2016
غرض جس چیز کا جائزہ لیں، اس کی قیمتیں بڑھی ہیں، البتہ چاول سستے ہوئے ہیں، یہ بھی وقتی نوعیت کا معاملہ ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 10 ویں اقتصادی جائزہ کے بارے میں مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کی خبر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ جائزہ مشن کی رپورٹ پر پاکستان کو 49 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنیکی منظوری دے گا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بجٹ خسارے، زر مبادلہ کے ذخائر، سماجی اخراجات اور بجلی کے سیکٹر کے واجبات کے اشارتی اہداف سمیت دیگر اہم اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں جب کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا البتہ گزشتہ سہ ماہی میں ٹیکس وصولیوں میں حوصلہ افزاء اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پہلی سہ ماہی کا شارٹ فال کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور رواں مالی سال کے آخر تک مہنگائی کی شرح ساڑھے چار فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اس کے برعکس سرکار کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی بارہ سال کی کم ترین شرح پر آ گئی ہے اور خطے میں سنگین چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی میں ریکارڈ کمی کا دعویٰ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشن سربراہ ہیرالڈ فنگر اور دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جہاں تک آئی ایم ایف کے پاکستانی معیشت پر اعتماد کا تعلق ہے تو یہ موجودہ حکومت کی کامیابی ہے۔

موجودہ حکومت نے برسراقتدار آ کر جو معاشی اصلاحات کی ہیں' ان کے ثمرات کسی حد تک ظاہر ہو رہے ہیں' زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں اور ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بھی بہتر ہے تاہم مہنگائی میں کمی کے حوالے سے صورت حال ویسی نہیں جیسی حکومت سمجھ رہی ہے اور بیان کر رہی ہے۔

بلاشبہ سبزیاں اور پھل موسمی حوالے سے مہنگے اور سستے ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا سالانہ اوسط نکالا جائے تو پتہ چلے گا کہ سبزیاں بھی مہنگی ہوئی ہیں اور پھل بھی مہنگے ہوئے ہیں' گوشت، دودھ اور انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں جسے یقین نہیں آتا وہ ان اشیا کے سال گزشتہ کے نرخ چیک کر لے۔ جب کہ ادویات کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں' ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں کا بھی یہی احوال ہے۔

غرض جس چیز کا جائزہ لیں' اس کی قیمتیں بڑھی ہیں' البتہ چاول سستے ہوئے ہیں' یہ بھی وقتی نوعیت کا معاملہ ہے' بہر حال مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معیشت خاصی بہتر ہوئی ہے لیکن ملک میں غربت اور بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے' حکومت کو اس بارے میں مزید سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ معیشت کے تمام شعبے اگر یکساں رفتار سے ترقی کریں تو اس سے بے روز گاری اور غربت میں کمی واقع ہو گی۔ جب تک روز گار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے' اس وقت تک معاشی استحکام اور مہنگائی میں کمی کی باتیں محض دعوے ہی کہلائی جا سکتی ہیں۔