صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی

دنیابھرمیں یہ مسلمہ اصول ہےکہ معاشی ترقی کی رفتاراس وقت ہی تیزہوتی ہےجب توانائی وافرہواوراس کےساتھ ساتھ یہ سستی بھی ہو


Editorial February 06, 2016
پاکستانی صنعتی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت نہ کر سکنے کی وجہ سے ہماری برآمدات کا حجم بھی کم ہے۔ فوٹو : فائل

وفاقی حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 3 روپے فی یونٹ کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نرخوں میں کمی وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر کی گئی تا کہ صنعتی سیکٹر کو ریلیف دیا جا سکے اور برآمدات میں بھی اضافہ ہو سکے۔ اس حوالے سے کے الیکٹرک سمیت بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ صنعتی صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنا ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدام ہے۔

دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار اس وقت ہی تیز ہوتی ہے جب توانائی وافر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سستی بھی ہو۔ پاکستان میں صنعتی و زرعی سرگرمیوں میں سست روی کی بنیادی وجہ توانائی کے ذرایع کی کمیابی اور ان کا مہنگا ہونا ہے۔ بجلی کے نرخ بہت زیادہ ہیں' انھیں مزید کم ہونا چاہیے' ادھر گیس کی بھی قلت ہے' لکڑی اور کوئلہ بھی مہنگے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرایع تلاش کرے' ان کے نرخ بھی کم کرے' بس سروس یا کسی اور منصوبے پر سبسڈی دینے کے بجائے صنعتی اور زرعی سیکٹر میں بجلی کے نرخوں پر سبسڈی دی جائے' اگر حکومت زرعی شعبے کو سستی بجلی فراہم کرے تو اس سے لامحالہ کسان خوشحال ہو گا جب کہ اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہو گا' زرعی شعبے پر بھرپور توجہ دی جائے تو اس سے پاکستان میں سبز انقلاب لایا جا سکتا ہے۔یہ پاکستان کی 70فیصد آبادی کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

اس طرح صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کرنے سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستانی صنعتی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت نہ کر سکنے کی وجہ سے ہماری برآمدات کا حجم بھی کم ہے جس میں اضافے کے بغیر پاکستان کی آمدنی میں مناسب اضافہ نہیں ہو رہا۔توانائی سستی ہو گی تو برآمدات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا۔