حکومت سندھ مسائل کے حل کی طرف متوجہ ہو

حکومت سندھ اعلانات اور دعوؤں کے باوجود عملی اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے


Editorial February 07, 2016
حکومت سندھ اعلانات اور دعوؤں کے باوجود عملی اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، فوٹو : فائل

لاہور: صوبہ سندھ میں مسائل کی بھرمار اور بطور خاص اندرون سندھ و تھرپارکر میں قحط سالی اور بیماریوں سے بچوں کی اموات پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے یہ بدانتظامی کا المیہ ہے کہ وسائل سے مالامال صوبے میں پیچیدہ مسائل پیش آ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ اس سے قبل کہ عدلیہ مداخلت کرے حکومت سندھ ان مسائل پر توجہ دے کر ان کا معقول حل نکالے گی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سالانہ عشائیے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ تھرپارکر میں خوراک کی کمی سے 36 روز میں 139 بچے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، جب کہ مختلف سرکاری اسپتالوں میں 200 سے زائد بچے زیر علاج ہیں۔

حکومت سندھ اعلانات اور دعوؤں کے باوجود عملی اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، افسوس ناک امر ہے کہ سندھ حکومت کے وزرا ادویہ اور خوراک کی کمی کا ازالہ کرنے کے دعوے تو کر رہے ہیں لیکن نتائج سامنے نہیں آ رہے، تھرپارکر میں صورتحال اب بھی خراب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سالانہ عشائیہ میں سندھ ہائی کورٹ بار حیدرآباد کے صدر غلام اﷲ چانگ نے تھرپارکر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موئن جو دڑو کے وارث تھر کے ایک سو پچاس سے زاید بچے غذائی قلت اور بیماریوں کی وجہ سے مر گئے ہیں لیکن انتظامیہ اور حکومت اتنی بڑی اموات پر خاموش ہے اور کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، انھوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ اتنی تعداد میں بچوں کی اموات پر از خود نوٹس لیں۔

بلاشبہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا صائب ہے کہ عدالت عظمٰی کو از خود نوٹس لینے کے لیے ان باتوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کر رہی ہے، لیکن ان کی یہ تنبیہہ ہی کافی ہے کہ حکومت سندھ عدلیہ مداخلت سے پہلے مسائل حل کرے۔ صوبہ سندھ میں معاملات جس ڈگر پر چل رہے ہیں وہ انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، چاہے وہ شہری و دیہاتی معاملات زندگی ہوں، تعلیم و صحت کی عدم دستیابی یا پھر بلدیاتی مسائل، ہر پہلو سے چشم پوشی برتی جا رہی ہے۔

بلدیاتی نظام قائم ہونے کے باوجود اختیارات کی جنگ کے باعث شہریوں کو ایک نئے عذاب میں مبتلا کیا جا رہا ہے، شہر کے صاف اور پوش علاقوں کی حالت بھی تباہ ہوتی جا رہی ہے، ہر علاقہ کچرا کنڈی اور بہتے گٹروں کے باعث گندے جوہڑ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، شہری انگشت بدنداں ہیں کہ اتنی بدانتظامی تو بلدیاتی انتخابات سے پہلے بھی نہ تھی پھر اب اچانک کیا ہو گیا؟ اداروں کی بھرتی میں اقربا پروری اور رشوت ستانی کے باعث معاملات مزید دگرگوں ہیں۔ کثیر جہتی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو فعال ہونا ہو گا اور مناسب لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا، تھر میں صحت کے مسائل، غذائی قلت اور شہروں میں بلدیاتی نظام کے سقم دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔