یوم یکجہتی کشمیر جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

کشمیر سمیت تمام اہم مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا


Editorial February 07, 2016
خطے میں پائیدار امن اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر کا فوری حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: پانچ فروری کو ہر سال کی طرح پاکستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر شہر شہر میں ریلیاں نکالی گئیں اور آزاد کشمیر کو مقبوضہ وادی سے ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔

مساجد میں نماز جمعہ کے بعد دعائیں مانگی گئیں کہ اللہ تبارک مظلوم کشمیریوں کی مشکلات آسان فرمائے اور ان کی جنت نظیر وادی کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے دیرینہ خواب کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے میں ان کی مدد کرے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں تعطیل عام رہی جب کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے جو وہاں ہر ایسے مواقع پر لہرائے جاتے ہیں جن کا پاکستان کے ساتھ تعلق ہوتا ہے جیسے یوم پاکستان یا یوم جمہوریہ اور جواب میں قابض فورسز کشمیری حریت پسندوں پر روایتی تشدد کے حربے آزماتی ہیں، آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی ہے حتیٰ کہ گولی بھی چلا دی جاتی ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں قانون ساز اسمبلی اور آزاد کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر سمیت تمام اہم مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، کشمیر ایشو پاکستان اور بھارت کی موجودہ قیادت کے لیے ایک امتحان ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی قومی روایت بن چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سمیت ہر معاملے پر بھارت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے۔

اس کے برعکس بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے بھارتی ٹی وی کے ایک پروگرام میں پھر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہشت گرد بھیج کر ہمارے ساتھ جنگ کی جا رہی ہے جس کا بہت سخت جواب دیا جائے گا اور پٹھانکوٹ حملہ کے ماسٹر مائنڈ کو سبق سکھا دیں گے۔ پاکستان نے اس معاملے میں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے تفتیشی ٹیم پٹھانکوٹ بھجوانے کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ پٹھانکوٹ کا واقعہ کہیں ''جعلی فلیگ آپریشن'' نہ ہو۔ وزیر اعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر اسمبلی سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اس بات کا اعلان ہے کہ کشمیر ہماری یادداشت کا مستقل حصہ ہے، کوئی پاکستانی کشمیر کو بھلا نہیں سکتا۔

مسئلہ کے عالمی تناظر کے حوالے سے وزیر اعظم نے یاددہانی کرائی کہ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے لہٰذا اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پوری دنیا کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، اقوام متحدہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام کیوں رہا ہے۔

وزیر اعظم کا استعجاب بجا تھا اقوام متحدہ کی کچھ قراردادوں کو سیاہی خشک ہونے سے پہلے عملی جامہ پہنا دیا جاتا ہے، کچھ قراردادوں پر سالہا سال عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کے امن و سلامتی کے لیے اس خطے کو ایک نئی بصیرت دینے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ آج جنوبی ایشیاء کو نئی سوچ کی ضرورت ہے تاریخ ہمیں پکار رہی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے تمام تنازعات حل کریں تا کہ ان کا مستقبل شاندار اور پر امن ہو۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ چین کے ساتھ سی پیک منصوبہ اس خواہش کا اظہار ہے کہ تصادم نہ ہو۔ یہ منصوبہ امن و خوشحالی کا پیغام ہے، خوشحالی اور امن اس وقت برابر تقسیم ہوسکتے ہیں جب خطے کے تمام افراد کو محترم سمجھا جائے، سب کے انسانی حقوق کا احترام ہو۔

کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا ملکوں کے درمیان اختلافات ہونا انہونی نہیں بلکہ انہونی یہ ہے کہ چھ عشروں سے مسائل حل نہ ہو سکیں، تمام مسائل باہمی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعہ حل کیے جاسکتے ہیں، امید ہے کہ آنے والے دنوں میں باہمی مذاکرات کا عمل آگے بڑھے گا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں نکالی جانے والی ریلیوں اور مظاہروں میں مقررین کا استدلال تھا کہ بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر ہر گز حل نہ کرے گا اس مقصد کے لیے کوئی اور آپشن استعمال کرنا ہو گا۔

خطے میں پائیدار امن اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر کا فوری حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ او آئی سی نے بھی امت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا جو انتہائی قابل افسوس ہے اور اس سنگین مسئلے پر آنکھیں بند رکھنا قوم سے خیانت ہے کیونکہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔