یورپی یونین سے ڈی پورٹیز پر صائب معاہدہ

دہشتگردی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں اور ہولناک نقل مکانی سے ان گنت انسانی مسائل پیدا کیے ہیں


Editorial February 09, 2016
امید کی جانی چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی اسی سطح کے اقدامات پر اتفاق رائے کو یقینی بنایا جائے گا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: پناہ گزینوں کی جبری واپسی (ڈی پورٹیز) کے حوالے سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تمام معاملات طے پا گئے جس کے مطابق یورپی یونین جرائم پیشہ افراد سے متعلق تمام ثبوت پاکستان کو مہیا کرنے کا پابند ہوگا۔ تصفیہ طلب امور کے حل سے ڈی پورٹیزکی منظم انداز میں واپسی ممکن بنے گی۔

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ملک بدر کیے جانے والے افراد کے حوالے سے اتفاق رائے برسلز میں ہونے والی میٹنگ کے دوران طے پایا ہے۔ یہ مثبت پیش رفت ہے اور اس کا کریڈٹ وازرت داخلہ کو جاتا ہے جس نے یورپی یونین کی طرف سے بلا تصدیق ملک بدر کیے جانے والے افراد کو پاکستان بھیجنے کی سخت مزاحمت کی اور اس استدلال پر ثابت قدمی دکھائی کہ ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کی مکمل اسکریننگ اور ان کی شہریت و دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی انھیں قبول کیا جا سکتا ہے چنانچہ یورپی یونین نے ڈی پورٹیز کے حوالے سے پاکستان کے تمام تحفظات کو دور کرنے کی جو یقین دہانی کرائی ہے وہ اسی بروقت اقدام کا نتیجہ ہے۔

اس معاہدہ کے تحت طے پایا ہے کہ آیندہ ڈی پورٹیز کی شہریت کی تصدیق اور ان کی منظم واپسی کے سلسلے میں وزارتِ داخلہ کے وضع کردہ طریقہ کار کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ جرائم یا دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے خلاف ثبوت حکومت پاکستان کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے جب کہ یورپی یونین کی جانب سے انسانی اسمگلرز کے خلاف وزارتِ داخلہ کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشتگردی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں اور ہولناک نقل مکانی سے ان گنت انسانی مسائل پیدا کیے ہیں اور یورپی ملک پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور ان کی بڑی تعداد کو قانونی طور پر قبول کرنے کے مسئلہ سے ایک چیلنج کے طور پر نمٹ رہے ہیں ۔

تاہم پاکستانیوں کی بے ہنگم ڈیپورٹیشن پر پاکستان کا احتجاج بلا جواز نہیں تھا جسے یورپی یونین نے تسلیم کرتے ہوئے بات چیت کی پیشکش کی اور اب یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا ہے۔ ادھر جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے کہا ہے کہ داعش کی مکمل شکست کے بعد تمام غیر ملکی پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس جانا ہوگا۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار نے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تمام امور خوش اسلوبی سے طے پانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تصفیہ طلب امور کے حل سے ڈی پورٹیز کی منظم انداز میں واپسی ممکن بنے گی پاکستان اور یورپی یونین کے مابین تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی اسی سطح کے اقدامات پر اتفاق رائے کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ انسانی اسمگلنگ اور پناہ گزینی سے پیدا شدہ مسائل بغیر کسی تلخی کے باہمی خیرسگالی سے طے پا جائیں۔