کراچی میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت

ملک کے سب سے بڑے تجارتی، کاروباری اور اقتصادی انجن کراچی کو انفراا سٹرکچر کے حوالے سے جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے


Editorial February 10, 2016
سندھ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے جدید انفرااسٹرکچر سے کراچی کو زیادہ دیر تک محروم نہ رکھے کیونکہ اسی میں شہر کی خوبصورتی مضمر ہے۔ فوٹو؛ ایکسپریس

FAISALABAD: ملک کے سب سے بڑے تجارتی، کاروباری اور اقتصادی انجن کراچی کو انفراا سٹرکچر کے حوالے سے جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ روز افزوں ٹریفک جام ہے اور بے ہنگم لائٹ و ہیوی وہیکلز کی دن رات سڑکوں اور شاہراہوں پر موجودگی ہے۔

ہزاروں چنگچی، لاکھوں موٹر سائیکلیں اور اسکوٹر اس کے علاوہ ہیں جو ٹریفک کی روانی کو متاثر کرتے ہوئے میگا سٹی کو ایک اعصابی دباؤ کا شکار بنائے ہوئے ہیں، غالباً اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور نے پیر کو ملیر 15 فلائی اوور کا افتتاح کیا ۔

جس کے بعد فلائی اوور کا مرکزی کوریڈور ٹریفک کے لیے فوری کھول دیا گیا تاہم ایک ریمپ ابھی زیر تعمیر ہے جو رواں سال جون تک مکمل کر لیا جائے گا، افتتاحی تقریب کے موقعے پر وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو، وزیر داخلہ سندھ سہیل سیال، ارکان سندھ اسمبلی اور کے ایم سی کے افسران بھی موجود تھے، صوبائی وزیر بلدیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں جلد میگا منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جائے گا اور کراچی کے عوام کو مزید خوشخبریاں دیں گے۔

ملیر 15 کا یہ پل جس پر ایک ارب روپے کی لاگت آئی ہے کا مرکزی حصہ مکمل کر لیا گیا ہے ابھی اس کا25 فیصد کام باقی ہے جس سے عظیم پورہ جانے والا راستہ بھی اسی پل سے نکالا جائے گا۔ اس فلائی اوور کی تعمیر کے دوران شہریوں کو لانڈھی کورنگی ، بن قاسم ، اسٹیل مل ، جام شورو، کوٹری اور حیدرآباد سے اندرون سندھ جانے کے انتظار کی سخت کوفت اٹھانا پڑتی تھی، لہٰذا اس حوالے سے سندھ حکومت نے فلائی اورر کا افتتاح کر کے مکینوں کو خوشخبری دی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام گمبھیر مسائل میں شاہراہوں کی تعمیر و توسیع ، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ٹریفک جام کا مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

شہر قائد کی دیگر بڑی شاہراہوں میں جو ایم اے جناح روڈ سے گزرتی ہوئی بندر گاہ، شپ یارڈ، کیماڑی اور شیریں جناح کالونی تک جاتی ہیں اذیت ناک بن چکی ہیں، تاہم صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ اس پل کی تکمیل کی مدت جون 2016 ہے اور ہم نے عوامی مسائل اور ٹریفک کی روانی میں مشکلات کے پیش نظر اس کا کام تیزی سے مکمل کرایا ہے اور اس کو پیر سے ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے باقی ماندہ کام جاری رہے گا اور اس سے ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہو گی۔

اس یقین دہانی کی روشنی میں سندھ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے جدید انفرااسٹرکچر سے کراچی کو زیادہ دیر تک محروم نہ رکھے کیونکہ اسی میں شہر کی خوبصورتی مضمر ہے۔