پی آئی اے بحران ٹل گیا

پی آئی اے کےبحران کے وسیع تر تناظر میں فلائٹ آپریشن کی بندش سے مسافروں اور جہازوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے تھے


Editorial February 11, 2016
ہڑتال ختم ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی پی آئی اے کے کاؤنٹرز کھلنے پر مسافروں کا رش لگ گیا، دفتروں میں بکنگ اور فضائی آپریشن بحال ہونے کا خیرمقدم کیا گیا فوٹو: فائل

پی آئی اے کے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے سے پہلے سلجھ گئے۔ اس پیش رفت پر ہر محب وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ ملازمین کی ہڑتال کوئی مطالبہ منوائے بغیر ختم ہوئی، قومی ایئر لائن کے تمام فلائٹ آپریشنز بحال ہوگئے۔

منگل کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کیپٹن سہیل بلوچ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہڑتال اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان اس استدلال اور امید کے ساتھ کیا کہ کمیٹی کا وفد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے لاہور میں ملاقات کرے گا جب کہ بدھ کو3گھنٹے بات چیت کے بعد انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ مطمئن ہوکر جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کو سارے حقائق بتا دیے ، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے قومی اثاثہ ہے اسے کھونا نہیں چاہتے۔ تاہم وزیراعظم فیصلہ کریں گے ،ان کو سب کچھ بتا دوں گا۔ اس ملاقات کے نتائج پی آئی اے، پاکستان اور عوام کے لیے مثبت اور بہتر ثابت ہونگے ۔

قبل ازیں انھوں نے ایک اور اہم انکشاف کیا کہ ایک ''مہربان دوست'' نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہڑتال ختم کرنے کو کہا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ اس مہربان نے ناصح مشفق کی صورت میں ایک صائب مشورہ دینے میں بڑی دیر کی تاہم ایوی ایشن انڈسٹری کی جس شخصیت نے خاموش مداخلت کی انھوں نے اپنے قومی ادارہ کو بچانے کے لیے اپنا فرض ادا کیا۔ مگر اس پورے بحران کے نکتہ عروج پر سپریم کورٹ کی ایک چشم کشا رولنگ نے جو مفاہمانہ ماحول پیدا کیا اسے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں فل بنچ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی اور قراردیا کہ احتجاج ہر ملازم کا بنیادی حق ہے اور مزدور یونینز کی ہڑتال پر پابندی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قرار دیاکہ بلوچستان ہائیکورٹ نے یونینز کے احتجاج پر پابندی لگا کر اختیارات سے تجاوز کیا، درخواست گزار گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ سے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق پی آئی اے سمیت تمام ٹریڈ یونینز پر ہوگا۔یہ ایک آزاد عدلیہ ہی کا اعجاز مسیحائی ہے کہ اپنے اس فیصلہ کی ہمہ گیر روشنی سے حکومت کو تحمل و تدبر کا سگنل ملا اور دوسری جانب پی آئی اے مزدور یونینز کو اپنے اقدام اور روش پر نظر ثانی کی تازگی ملی، پالپا نے اپیل کی کہ تمام ملازمین کام پر آجائیں،ایکشن کمیٹی نے عمرہ آپریشن عارضی بحال کردیا اور بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔

دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، نجی شعبہ کے لیے ماحول یقینی بنانا ہے۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو وفاقی حکومت اور پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی دونوں نے ہڑتال کے خاتمہ کے ضمن میں احساس زیاں کا ایک شاندار مظاہرہ کیا اور ادارہ کو بربادی اور ملک کو بدنامی سے بچالیا ورنہ دنیا ہم پر دیگر بے بنیاد اور جگر سوز طعنوں اور الزامات کے یہ نئی تہمت بھی لگا سکتی تھی کہ ان لوگوں سے اپنی قومی ایئر لائن نہیں سنبھل رہی تو یہ دہشتگردی سے حتمی طور پر کیسے نمٹیں گے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ پی آئی اے کے بحران کے وسیع تر تناظر میں فلائٹ آپریشن کی بندش سے مسافروں اور جہازوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے تھے، حکومت کی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی ان خدشات سے تشویش تھی۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق احتجاج کے دوران نقص امن کے خدشہ پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 3 رہنماؤں کی تین ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات پر راولپنڈی پولیس نے تینوں کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کردیا جب کہ تھانہ ائیرپورٹ میں ہڑتال کے دوران فلائٹ آپریشن بحال کرنے پر پی آئی اے ملازمین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر ائیر لیگ کے جنرل سیکریٹری سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ادھر کراچی میں 4 لاپتا ملازمین گھر واپس آئے ، لیکن کراچی ایئر پورٹ کے دو ملازمین کی الم ناک ہلاکت کی تحقیقاتی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آئی، پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کوشدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا، کراچی میں پی آئی اے انتظامیہ نے ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن سہیل بلوچ سمیت مزید 10 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، گزشتہ روز بھی 64 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔35 ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

بہر کیف ضرورت خرابیٔ بسیار کے بعد ادارہ کے امور کی شفافیت کے ساتھ نگہبانی کی ہے ، ایئر پورٹس پر امن بحال ہونا شروع ہوا ہے، ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا فضائی آپریشن مکمل بحال کردیا گیا ہے، جن مسافروں نے بکنگ کرائی ہے وہ شیڈول کے مطابق ائیرپورٹ پہنچ جائیں ۔یوں ہڑتال ختم ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی پی آئی اے کے کاؤنٹرز کھلنے پر مسافروں کا رش لگ گیا، دفتروں میں بکنگ اور فضائی آپریشن بحال ہونے کا خیرمقدم کیا گیا ۔ اب انتظامی محاذ پر مزید احتیاط ، جوابدہی اور مالیاتی ڈسپلن کی ضرورت ہے۔