افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع

حکومت پاکستان نے ملک میں 30 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں عارضی طور پر 6 ماہ کی توسیع کردی ہے


Editorial February 11, 2016
کرپشن اور مفاد پرستی کا زہر ہر ادارے میں سرائیت کرچکا ہے، کچھ بعید نہیں کہ مہاجرین کی واپسی کی راہ میں بھی یہی عفریت حائل ہو۔ فوٹو : فائل

حکومت پاکستان نے ملک میں 30 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں عارضی طور پر 6 ماہ کی توسیع کردی ہے۔ وزارت سیفران کے ترجمان کے مطابق یہ مدت 31 دسمبر 2015کو ختم ہوگئی تھی، افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعدکیا جائے گا تاہم ان کی واپسی مرحلہ وارہو گی جس کے لیے 2 سال کا عرصہ درکار ہے۔

پناہ گزین و مہاجرین کسی بھی ملک کی معیشت پر اضافی بوجھ تصور کیے جاتے ہیں جب کہ افغان مہاجرین اپنی رجسٹرڈ تعداد 30 لاکھ سے کہیں زیادہ اس ملک میں برسوں سے مقیم ہیں۔ پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گرد عناصر کے ان افغان مہاجرین کی بستیوں میں روپوش ہونے کی اطلاعات بھی منظرعام پر آتی رہی ہیں، برادر افغان ملک اور صوبہ خیبرپختونخوا میں بسنے والوں کی یکساں روایات، کلچر اور بودوباش کے باعث افغان مہاجرین کا یہاں خلط ملط ہونا سہل رہا۔ یہ بھی اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ ان افغان مہاجرین نے پاکستانی شناخت حاصل کرکے یہاں کی مستقل شہریت بھی اختیار کرلی، ایسے میں غیر رجسٹرڈ افغانوں کی الگ پہچان بھی مشکوک ہوگئی ہے۔

ان مہاجرین نے قبائلی اور پسماندہ علاقوں کے علاوہ بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں بھی اپنی بستیاں بسائی ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ رشتے داری اور شادی بیاہ کے بعد مسائل مزید گنجلک ہوچکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے لیے وزارت خزانہ نے 2 ارب روپے جاری کیے ہیں تاہم اس حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

لیکن امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں اور معیشت پر بڑھتے بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی کو ممکن بنانا ازحد ضروری ہے۔ کیا وجوہات ہیں کہ اتنے برسوں کے بعد جب افغان مہاجرین کی واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیا گیا تو یہ واپسی ممکن نہ ہوسکی؟ کہیں مہاجرین کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ کی کشش تو بیوروکریسی کو اس دانشمندانہ فیصلے پر عمل سے نہیں روکے ہوئے ہے؟ کرپشن اور مفاد پرستی کا زہر ہر ادارے میں سرائیت کرچکا ہے، کچھ بعید نہیں کہ مہاجرین کی واپسی کی راہ میں بھی یہی عفریت حائل ہو۔

پاکستان کے بہتر مفاد میں افغان مہاجرین کی واپسی ازحد ضروری ہے، اس سلسلے میں صائب لائحہ عمل تیار کیا جائے اور معاملے کو مزید توسیع کی طرف بڑھانے کے بجائے واپسی کے سلسلے میں اقدامات کیے جائیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔