وحیدہ شاہ تھپڑکیس کا فیصلہ ایک انتباہ

الیکشن جمہوری آداب کے آئینہ دار ہوتے ہیں,انتخابی مہم اور پولنگ کے قواعد کی پابندی تمام امیدواروں پر لازم ہوتی ہے.


Editorial November 05, 2012
وحیدہ شاہ کو عوامی نمایندگی ایکٹ کے تحت دو سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ فوٹو فائل

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)فخرالدین جی ابراہیم نے وحیدہ شاہ کی دوسال کے لیے نااہلی کافیصلہ برقراررکھا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 53 ٹنڈو محمد خان سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والی امیدوار وحیدہ شاہ نے رواں سال 25فروری کو ضمنی انتخاب کے دوران پولنگ اسٹیشن پر خاتون پریذائیڈنگ افسر حبیبہ میمن کو تھپڑ مارا تھا۔ ان کی اس حرکت پر میڈیا میں شدیدعوامی رد عمل سامنے آیا اور انتخابی عمل اور جمہوری اقدار وپارلیمانی روایات کی تضحیک پر پوری قوم نے اپنے اضطراب کا اظہار کیا ۔

یہ الزام اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ انتخابی پولنگ میں دھاندلی یا جعل سازی ہوئی تھی تب بھی کسی امیدوار کو قانون ہاتھ میں لینے اور کسی پریزائیڈنگ افسر کو زدوکوب کرنے کا کوئی حق نہیں،الیکشن جمہوری آداب کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور انتخابی مہم اور پولنگ کے قواعد وضوابط کی پابندی تمام امیدواروں پر لازم ہوتی ہے اس لیے کوئی جمہوریت پسند وحیدہ شاہ کی حمایت نہیں کرسکتا،اور اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر نے انتباہی فیصلہ دیا ہے جو شفاف انتخابات کے انعقاد کے الیکشن کمیشن کے عزم کا عکاس بھی ہے۔

اتوار کو الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق 24اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر نے وحیدہ شاہ کو طلب کیا اور ان سے وضاحت طلب کی، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وحیدہ شاہ کے اس عمل نے ہماری جمہوریت اور پورے انتخابی عمل کو بدنام کیا، انھیں معاف نہیں کیا جاسکتا، اگر کسی امیدوار کو انتخابی عملہ کو مارنے پیٹنے یا گالیاں دینے کی آزادی دی جائے گی تو اس سے پورا عمل متاثر ہوتا ہے اورانتخابی نتائج لایعنی ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ فیصلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ پی ایس 21 نوشہروفیروز میں ضمنی انتخاب سے قبل تقرر و تبادلوں کے بارے میں شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی منسوخی کا حکم دے دیا ہے۔

یاد رہے سندھ ہائی کورٹ نے 6 دسمبر2011کو پی پی کے ایک امیدوار کی استدعا پر کہ اپنے خلاف فیصلہ پر وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتی ہیں وحیدہ شاہ کی الیکشن کمیشن کی طرف سے نااہلی پر اپنے فیصلہ کو 15 دن کے لیے معطل رکھا تھا۔وحیدہ شاہ کو عوامی نمایندگی ایکٹ6 197ء کے تحت دو سال کے لیے کسی بھی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے نااہل قرار دیدیا گیا تھا۔مزید براں وحیدہ شاہ کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے نااہلی اس نکتہ پر ختم کردی تھی کہ عوامی نمایندگی ایکٹ کی دفعہ 100 کے تحت نااہل قرار دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں صرف چیف الیکشن کمشنر کو ہے، چنانچہ چیف الیکشن کمشنر نے 24 اکتوبر2012ء کودلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جس کا پیر کو فیصلہ سنادیا گیا۔ اس فیصلہ نے انتخابی عملہ و افسران کے تحفظ ، پولنگ پروسس میں عدم مداخلت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات اور اس کے وقار کے معاملات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ جمہوری حلقوں میںاس فیصلہ کا خیر مقدم کیا جائے گا۔