پاک بھارت مذاکرات جلد شروع ہونے چاہئیں

دونوں ملکوں کامفاد اسی میں ہےکہ کسی بھی دہشت گردی کی واردات کو بنیاد بناکرباہمی مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہونا چاہیے


Editorial February 12, 2016
دونوں ملک جلد از جلد اپنے تنازعات طے کریں تاکہ اس خطے میں پائیدار بنیادوں پر امن قائم ہو سکے۔ فوٹو : فائل

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیاں سیکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات معطل نہیں ہونگے، اس سلسلے میں دونوں ممالک رابطے میں ہیں اور تاریخوں کا تعین کیاجارہاہے۔ ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہاکہ پاکستان اور بھارت کو اس بات کا ادراک ہے کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے جس سے تنازعات حل کرنیکی راہ نکلے گی۔

ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت جامع مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہوا۔ اس دوران بہت سے ایسے مواقع آئے جب دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں اور برف پگھلنے کی باتیں بھی ہوئیں لیکن مذاکرات کا سلسلہ بحال نہ ہو سکا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو انھوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کیں حالانکہ بھارت میں برسراقتدار آنے والی بی جے پی نے الیکشن میں کامیابی پاکستان کی مخالفت کی بناپر حاصل کی تھی۔

وزیراعظم مودی کی حکومت نے ابتدائی برس میں خاصی جارحانہ پالیسی اختیار کی۔ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل اشتعال انگیزی جاری رکھی لیکن پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پھر بھارتی حکومت کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس ہوا۔

ایسے میں وزیراعظم نواز شریف کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے پہلے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ملاقات ہوئی اور پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کابل سے وطن واپس جاتے ہوئے لاہور تشریف لائے اور یہاں ان کی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات ہوئی' قبل ازیں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی پاکستان تشریف لائیں۔

یوں دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق ہوا' یہ بڑا بریک تھرو تھا' اس دوران بھارت کے شہر پٹھانکوٹ میں ائیرفورس کی ایئر بیس پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا' اس حملے کے بعد خارجہ سطح کے مذاکرات ایک بار پھر معطل ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے لیکن اب پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ پاک بھارت خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات معطل نہیں ہوں گے۔

یہ اچھی بات ہے' دونوں ملکوں کا مفاد اسی میں ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کی واردات کو بنیاد بنا کر باہمی مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں ملکوں میں موجود انتہا پسندوں کا ایجنڈا یہی ہے کہ پاک بھارت تعلقات بہتری کی جانب گامزن نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے تو اس کی آڑ میں یہ شور اٹھ جاتا ہے کہ باہمی مذاکرات کا سلسلہ بند کر دیا جائے' یوں دونوں ملکوں میں تلخیاں بہت بڑھ جاتی ہیں' پٹھانکوٹ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ کو بھارت میں پاکستان کی جانب موڑنے کی کوشش کی گئی۔بھارت میں سیاسی میدان میں انتہا پسند بہت مضبوط ہیں۔

آر ایس ایس' بجرنگ دل' شیوسینا اور اس جیسی دیگر تنظیمیںکھلے عام جلسے اور کانفرنسیں منعقد کر رہی ہیں اور ان جلسوں اور کانفرنسوں میں پاکستان کے خلاف جارحانہ تقاریر کی جا رہی ہیں۔یہی وہ گروہ ہے جو پاکستانی فنکاروں کے خلاف بھی مظاہرے کرتا ہے اور یہ بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان کے کرکٹ کے کھلاڑی بھارت میں کھیلیں۔ پچھلے دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان بھارت گئے تو وہاں بھی انتہا پسندوں نے ہنگامہ کیا۔

بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی اکثر وارداتوں میں بھی بھارتی تنظیمیں اور 'را' ملوث پائی گئی۔پٹھانکوٹ میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ بھی بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جب تک مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں اس وقت تک اس واقعے پر بیان بازی درست عمل نہیں ہے۔

پٹھانکوٹ واقعے کی پاکستان نے مذمت کی ہے۔بہر حال اس موقع پر پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا' بھارت کی حکومت نے بھی پہلی بار براہ راست پاکستان پر الزام تراشی سے اجتناب کیا' اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں اور دونوں ملکوں میں تلخی بڑھی نہیں۔ بلاشبہ نان اسٹیٹ ایکٹرز پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کا امن غارت کرنا چاہیے' دہشت گرد عناصر کا ایجنڈا سیاسی ہے اور وہ اس سارے خطے کو ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کا نشانہ ہے' پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

اب پاکستان میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے' ایسے حالات میں بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ بھارت کے افغانستان میں قائم قونصلیٹس کو بھی صرف سفارتکاری کے دائرے میں رہنا چاہیے۔

بھارتی حکومت کو ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان میں گڑ بڑ کراکے بھارت بھی پرامن نہیں رہ سکتا۔لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ جلد شروع ہونا چاہیے۔دونوں ملک جلد از جلد اپنے تنازعات طے کریں تاکہ اس خطے میں پائیدار بنیادوں پر امن قائم ہو سکے۔