دواؤں کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافے کی منظوری نوٹیفکیشن جاری

ٹرائیسیل گولیوں کی قیمت بڑھ کر 500 روپے، ڈیلٹاکورٹیل 1500،اسٹرپسیل کی450سے بڑھ کر525روپے ہوگئی


Staff Reporter November 06, 2012
اضافہ غیر قانونی ہے،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے بل پر صدرکے دستخط ہونا باقی ہیں، مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، ہول سیلرز فوٹو: فائل

ISLAMABAD: وفاقی حکومت نے دواؤں کی قیمتوں میں15سے30 فیصد تک اضافے کی منظوری دے کر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاہے۔

قواعدکے مطابق فیڈرل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے قبل دواؤںکی قیمتوں میں اضافہ نہیںکیاجاسکتا۔ تفصیلات کے مطابق میں وفاقی حکومت نے ملک میں18دواؤںکی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ ان دواؤں میں شامل انجکشن Venoferکی قیمت 4فیصد اضافے کے بعد سابقہ قیمت1831روپے بڑھ کر2600 روپے ہوگئی ہے۔ ٹیبلیٹInderal 10mgکی قیمت میں30فیصد اضافہ، Inderal 40mg کی قیمت میں30فیصد، ٹیبلیٹ Optalidon کی قیمت میں15فیصد، ٹیبلیٹ Aldometکی قیمت میں 10فیصد، ٹیبلیٹ Entamezol DSمیں 15فیصد، ٹیبلیٹ Spasmo Cibalginکی قیمت میں15فیصد، ٹیبلیٹ Postan frotکی قمیت میں6فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔دیگر دواؤں میں ٹیبلیٹ Spasier Neo، ٹیبلیٹ Cycopin، ٹیبلیٹ Mefenamic وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے بل پر ابھی صدرمملکت کے دستخط ہونا باقی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ غیر قانونی ہے کیونکہ18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقی وزارت صحت کے شعبے کوصوبوں میں منتقل کردیاگیاہے لیکن دواؤں کی مانیٹرنگ اور قیمتوںکے تعین کیلیے فیڈرل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کافیصلہ کیاگیاتھا۔ دریں اثناہول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر محمد عاطف نے کہا ہے کہ گذشتہ برس کے دوران ادویات کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ کیاگیا۔ انھوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی بیناڈرل شربت کی قیمت میں30فیصد اضافہ کیاگیا۔ٹرائیسیل گولیوں کی قیمت390 سے بڑھ کر 500 روپے، لبریکس گولیاں 59 سے 75روپے، ڈیلٹاکورٹیل گولیاں 1000 سے بڑھ کر1500روپے، فاسٹم جیل140سے 257روپے، ہائیڈرلین شربت30روپے سے بڑھ کر 36روپے، ریجکس20ملی گرام گولیاں180سے بڑھ کر185روپے، میکسیس گولیاں نئی قیمت61روپے، پیناڈول گولیاں 140 سے بڑھ کر180روپے، زوپینٹ گولیاں 275سے بڑھ کر325روپے، فیبرول گولیاں 119سے بڑھ کر180روپے،اسٹرپسیل گولیاں 450 سے بڑھ کر525روپے تک پہنچ چکی ہے۔

کراچی ہول سیل اینڈ کیمسٹ کونسل کے صدر غلام نورانی نے بتایاکہ اس وقت مارکیٹ میںقیمتوں میںاضافے کے پیش نظر متعدد دوائوں کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایفی ڈرین سے تیارکی جانے والی تمام دوائیں مارکیٹ سے ناپیدہوگئی ہیں جبکہ تھائیروکسین، کفکول، کوریکس ڈی شربت،ایری تھروسین شربت سمیت درجنوںدوائیں اور کھانسی نزلے زکام کی دوائیں مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔