ظفر علی شاہ کے الزامات امن و امان کا مسئلہ پیدا کرسکتے ہیںپیپلز پارٹی

مولا بخش چانڈیو، شرجیل میمن اور تاج حیدر کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات،میڈیا سے گفتگو


Staff Reporter November 06, 2012
کراچی: تاج حیدر،مولابخش چانڈ یواورشرجیل میمن صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر آرہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

پیپلز پارٹی ضمنی انتخابات پرامن اور شفاف کرانے کی یقین دہانی کراتی ہے، ظفر علی شاہ اور نیشنل پیپلز پارٹی کے الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں۔

ہم نے الیکشن کمشنر سے کہا ہے کہ پولنگ کے دنانتخابات کی نگرانی وہ خود کریں، رینجرزکو بلائیں، مخالفین کو بے بنیاد الزامات سے روکا جائے۔ یہ الزامات امن و امان کا مسئلہ پیدا کرسکتے ہیں ۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری تاج حیدر نے الیکشن کمیشن آف سندھ میں چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان فخر الدین جی ابراہیم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ انھوں نے کہا کہ ہم الزامات کی تردید اور شفاف الیکشن کی یقین دہانی کیلیے خود چیف الیکشن کمشنر کے پاس حاضر ہوئے ہیں ۔ تاج حیدر نے کہا کہ ظفر علی شاہ کا پیپلز پارٹی سے اعلان لاتعلقی اور ضمنی انتخابات میں اپنا آزاد امیدوار لانا، پلٹ کے جو دیکھا تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوئی کے مصداق ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ہم شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کروانا چاہتے ہیں ۔ ہم الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق عمل کریں گے ۔ الیکشن کو شفاف بنانا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ظفر علی شاہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجاتے ہیں ۔ جب پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تو وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ کوئی اور آنے والا ہے تو وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کا اندازہ غلط ثابت ہوگا کیونکہ اگلی بار بھی ہم ہی آنیوالے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ظفر علی شاہ اگراپنے آپکواصول پسند سمجھتے ہیںتوقومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات حیرت ناک ہے کہ ظفر علی شاہ نے ساڑھے چار سال کا وقت اسی پارٹی میں گزارا اور اب انھیں معلوم ہو ا کہ یہ پارٹی بی بی کی نہیں زرداری کی ہے ۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ عام انتخابات موجودہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد مقررہ وقت پر ہی ہونگے۔ملک کا انتخابی ماحول بھی یہ ثابت کر رہا ہے، تمام سیاسی قوتیں سرگرم ہیںاور بھٹو مخالف بننے والے اتحاد بھی اس بات کی علامت ہیں۔