پاک بھارت مذاکرات …امید افزا اشارے

بھارت اور پاکستان کی قیادت اپنے بیانات میں یہ کہتی رہتی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں


Editorial February 17, 2016
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرے اور باہمی تنازعات کو جیو اور جینے دو کے اصول پر حل کرے فوٹو : فائل

پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ٹریڈ سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سے مشروط نہیں اور دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ مذاکرات اور پٹھان کوٹ واقعے سے متعلق رابطے میں ہیں اور پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات جلد ہو گی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث نہیں، پاک افغان تعلقات پر بھارت کو کوئی اعتراض نہیں ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

تجارت بڑھانے کے لیے ویزا عمل آسان بنانا ہو گا۔ ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیربرائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی ہائی کمشنر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی تاریخ بھارت نے دینی ہے، یہ ہمارا مسئلہ نہیں، پاکستان مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہوتا ہے، پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات میں ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے تصدیق کی کہ پٹھان کوٹ معاملے پر پاک بھارت سیکریٹری خارجہ رابطے میں ہیں۔

پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کی باتیں خاصی امید افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سیکریٹری کی سطح پر ہونے والے مذاکرات عمل پذیر ہوں گے لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا یہ کہنا کہ ہماری طرف سے مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور مذاکرات کی تاریخ بھارت نے دینی ہے' یہ ہمارا مسئلہ نہیں' یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی حکومت مذاکرات کی راہ میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات ہونے چاہئیں اور اس حوالے سے ویزا کے حصول میں بھی آسانیاں ہونی چاہئیں تاکہ دونوں ملکوں کے تاجر ' سرمایہ کار اور صنعتکار ایک دوسرے کے ملک میں باآسانی آ اور جا سکیں لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ملک مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ مذاکرات ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے باہمی تنازعات کو پرامن طریقے سے طے کیا جاتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کی قیادت اپنے بیانات میں یہ کہتی رہتی ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن عملاً صور ت حال یہ ہوتی ہے کہ اول تو مذاکرات التوا کا شکار رہتے ہیں اور اگر یہ مذاکرات ہو بھی جائیں تو ان میں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن تنازعات جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ ویزے کے معاملات بھی ماضی جیسے ہی ہیں۔

بھارت سے کوئی پاکستان آنا چاہے تو اسے بھی ویزا حاصل کرنے کے لیے خاصے جتن کرنے پڑتے ہیں اور اگر پاکستان سے کوئی بھارت جانا چاہے تو اس کی راہ میں بھی خاصی مشکلات حائل ہوتی ہیں۔دونوں ملک سارک تنظیم میں بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کے اجلاس بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن اس کے ثمرات بھی ابھی تک ظاہر نہیں ہو سکے۔ہو سکتا ہے کہ بھارت کے بنگلہ دیش اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں 'بھوٹان اور مالدیپ کی بات اس لیے نہیں کی جا سکتی کہ وہ تو ہیں ہی بھارت کے زیر اثر لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہو سکے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنے باہمی تنازعات کو حل نہیں کر سکی۔

کشمیر کا تنازعہ تو خیر پیچیدہ معاملہ ہے ' چلیں اس حوالے سے تو کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیے جلد کسی حل پر پہنچنا ایک مشکل کام ہے لیکن نسبتاً کم اہمیت کے تنازعات کے حوالے سے بھی کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آیا۔ پانی کے حوالے سے بھی دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ سیاچن کا تنازعہ بھی جوں کا توں ہے ۔ سرکریک کے حوالے سے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اب تک جتنے بھی مذاکرات ہوئے ہیں وہ محض نمائشی نوعیت کے تھے۔

اب بھی خارجہ سیکریٹریوں کے جو مذاکرات متوقع ہیں' وہ بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ خارجہ سیکریٹریوں کے مینڈیٹ میں اضافہ نہیں کرتی۔ اگر مینڈیٹ محدود ہو گا تو بچارے خارجہ سیکریٹری کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرے اور باہمی تنازعات کو جیو اور جینے دو کے اصول پر حل کرے۔تنازعات کو مسلسل برقرار رکھنا 'اس خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یہ تنازعات جتنے زیادہ طویل ہوں گے اتنے ہی زیادہ پیچیدہ اور ناقابل حل ہوتے چلے جائیں گے۔