سندھ حکومت کے لیے اسٹریٹ کرائمز کا چیلنج

ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں اسٹریٹ کرمنلز کی دیدہ دلیری کے باعث شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔


Editorial February 20, 2016
وفاقی حکومت سندھ میں دہشتگردی کے مکمل خاتمہ، امن عامہ اور سیکیورٹی کے قیام کے لیے سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ فوٹو: فائل

سندھ میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں نمایاں کمی کے باوجود مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکشی جاری ہے، اور صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ کو فون کر کے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں کے واقعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور آئی جی پر زور دیا کہ کہ دیگر سنگین جرائم کی طرح اسٹریٹ کرائمز سے بھی اسی اسپرٹ کے ساتھ نمٹا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ کراچی کے مکینوں نے امن کی بحالی کے بعد سکھ کا سانس لیا تھا لیکن تساہل کے باعث اسٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں اسٹریٹ کرمنلز کی دیدہ دلیری کے باعث شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

غالباً اسی تشویش سے رینجرز حکام بھی غیر متعلق نہیں رہے چنانچہ ڈی جی رینجرز سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اسٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں کی وارداتوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، اب چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا، گزشتہ روز رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس منعقد ہوا ۔

جس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی ڈی جی، سیکٹر کمانڈر اور ڈی آئی جیز نے شرکت کی۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سندھ سے آنے والے مسلم لیگی وفد کو یقین دلایا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ میں دہشتگردی کے مکمل خاتمہ، امن عامہ اور سیکیورٹی کے قیام کے لیے سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ اس تعاون کا عملی مظاہرہ جلد ہونا چاہیے کیونکہ شہری پولیس کی کالی بھیڑوں کی چھین جھپٹ سے بھی تنگ آئے ہوئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ کراچی میں سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو گھروں اور مختلف مقامات سے اغوا کر کے ان کی رہائی کے عوض تاوان وصول کرنے کی شکایت پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ادھر تھر پارکر میں بھوک اور بیماری نے مزید 7 بچوں کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جس کے بعد رواں ماہ معصوم بچوں کی اموات کی تعداد 55جب کہ رواں سال کے 49 روز میں 170 ہو گئی ہے جو سندھ حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔