اسلحے کی دوڑ اور جنوبی ایشیاء کا امن

جنوبی ایشیا میں بھارتی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے اپنی سرحدوں اوردفاع کومضبوط بنانےکےلیے پاکستان نے اسلحہ خریدنا شروع کیا


Editorial February 24, 2016
اگر بھارت اپنا جنگی جنون ختم کرکے اسلحہ درآمد کرنا بند کر دے تو پاکستان اسلحہ کی خریداری میں مزید تخفیف کر سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

ملٹری تھنک ٹینک اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ (اسپری) کی رپورٹ کے مطابق2011 سے 2015تک اسلحہ کی درآمد کرنے والے ممالک میںپہلے نمبر پر بھارت، دوسرے پر سعودی عرب، تیسرے نمبر پر چین جب کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں نویں سے 10ویںنمبر پر آگیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 2015 میں 3 ہزار 78 ملین ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا جب کہ پاکستان کا یہ حجم 735 ملین ڈالر رہا۔ہندوستان کو سب سے زیادہ روس نے ایک ہزار 964 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جس کے بعد اسرائیل اور امریکا نے بالترتیب 316 اور 302 ملین ڈالر کا اسلحہ برآمد کیا۔پاکستان نے سب سے زیادہ اسلحہ چین سے درآمد کیا جس کی مالیت 565 ملین ڈالر تھی جب کہ اس کے بعد اسے امریکا نے 66 ملین ڈالر کا اسلحہ برآمد کیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات، ہندوستان کو ہمیشہ چبھتے رہے ہیں اور خطے میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیے خود سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک لیکن دیگر ممالک کو پاکستان کو اسلحہ فروخت کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ہندوستان نے اندرا گاندھی کے دور میں ایٹمی دھماکا کرخطے میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کو للکارا جس کے جواب میں پاکستان کو فوراً ایٹمی دھماکے کرنا پڑے۔جنوبی ایشیا میں بھارتی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے، اپنی سرحدوں اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے اسلحہ خریدنا شروع کیا ۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی ہندوستان نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو 8 ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا کہ پاکستان کو ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔تاہم امریکا نے ہندوستان کی اس تشویش کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے یہ ڈیل خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ اگر بھارت اپنا جنگی جنون ختم کرکے اسلحہ درآمد کرنا بند کر دے تو پاکستان اسلحہ کی خریداری میں مزید تخفیف کر سکتا جو نہ صرف خطے میں قیام امن کے لیے سود مند ثابت ہو گا بلکہ جنوبی ایشیاء میں اقتصادی ترقی کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔