بجلی چوری روکنے کے لیے قانون کی منظوری

توانائی چوری کرنے والے عام پاکستانیوں کا بھی حق مار رہے ہیں لہٰذا ان کی پکڑ ہونی چاہیے


Editorial February 28, 2016
اسمبلی میں قانون منظور کرا لینا اکثریتی پارٹی کی حکومت کے لیے کوئی مشکل امر نہیں ہوتا لیکن اصل کام قانون پر عمل درآمد کرانے کا ہوتا ہے فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے کا مسودہ قانون اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے جس کے تحت بجلی چوروں کو 5 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اس قانون کی منظوری یقیناً ایک مثبت قدم ہے مگر اصل کام اس قانون پر عمل درآمد کرانے کا ہے کیونکہ بجلی چوری کے خلاف قوانین تو پہلے سے بھی موجود ہیں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے سرکاری مہم بھی چلائی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود بجلی چوری اور لائن لاسز بھی بدستور جاری ہیں جن کا خمیازہ بے چارے صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اب نئے قانون میں سزاؤں اور جرمانوں میں اضافہ تو بے شک کیا گیا ہے مگر جس طرح سابقہ قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں نئے قانون کی پاسداری کی ضمانت کیسے ملے گی۔ بل کے تحت قومی تحفظ توانائی پالیسی کی تیاری کے لیے 25 رکنی بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس کے چیئرمین وزیر پانی و بجلی ہوں گے جب کہ سیکریٹری پانی و بجلی وائس چیئرمین ہوں گے۔

اسمبلی میں قانون منظور کرا لینا اکثریتی پارٹی کی حکومت کے لیے کوئی مشکل امر نہیں ہوتا لیکن اصل کام قانون پر عمل درآمد کرانے کا ہوتا ہے جو کہ کرپٹ سرکاری مشینری کے ذریعے کرانا بہت مشکل ہوتا ہے جو خود مجرموں کو بچاؤ کے راستے بتاتی ہے اور بے گناہوں کو خواہ مخواہ پھنسا دیا جاتا ہے جس سے سارا معاملہ ہی کھٹائی میں پڑنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بہرحال بجلی چوری ہو یا گیس کی چوری، اس کی پکڑ ہونی چاہیے۔ ویسے بھی جن علاقوں سے بجلی کے بل وصول نہیں ہوتے وہاں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے معاملات کو طے کر لیا جائے۔

پاکستان اب توانائی ضایع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ توانائی چوری کرنے والے عام پاکستانیوں کا بھی حق مار رہے ہیں لہٰذا ان کی پکڑ ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری عمال کی جوابدہی کا بھی فول پروف میکنزم تیار کیا جانا چاہیے، اس طریقے سے ہی توانائی کی چوری کو روکا جا سکتا ہے۔