پشاور میں خودکش حملہ

دہشت گردوں نے پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا، اتنا تو پاک بھارت جنگ کے دوران بھی نہیں ہوا۔


Editorial November 08, 2012
پشاور میں خودکش بمبار نے ایس پی انوسٹی گیشن ہلال حیدر کی گاڑی کو نشانہ بنایا. فوٹو: اے ہی پی

محرم الحرام سے چند دن قبل سندھ، بلوچستان اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی تازہ لہر نے اہل وطن کو ایک مرتبہ پھر ایک انجانے خوف میں مبتلا کر دیا ہے کیوں کہ کراچی، حیدر آباد، کوئٹہ اور پھر خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں یکے بعد دیگرے شدت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی نے سیکیورٹی اور خصوصاً انٹیلی جنس اداروں کے لیے نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

پشاور میں تھانہ خان رازق کی ناک کے نیچے ایک خودکش بمبار نے ایس پی انوسٹی گیشن ہلال حیدر کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایس پی اور ان کے تین محافظوں سمیت چھ قیمتی جانیں ضایع ہوئیں۔ 37 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے آٹھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اس خود کش حملے کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اب تک تقریباً 40 ہزار بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، ان میں عام شہریوں سمیت ملکی سلامتی کے اداروں کے اہل کار بھی کثیر تعداد میں شامل ہیں۔

دہشت گردوں نے پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا، اتنا تو پاک بھارت جنگ کے دوران بھی نہیں ہوا۔ خود کش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں کی تازہ لہر کو فرقہ واریت کے زمرے میں شمار کرنا بعید از قیاس نہیں۔ کیونکہ فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔ دونوں کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔ ایک گروپ فرقہ واریت کے ذریعے عوام کو لڑانا چاہتا ہے تو دوسرے کا ٹارگٹ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ہیں۔ اس قسم کے حملوں سے عسکریت پسند یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ وہ جب اور جہاں چاہیں اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور ان کا نیٹ ورک پوری طرح فعال ہے۔

خیبر پختونخوا میں صورتحال خاصی خراب ہے، انتہا پسندوں کے ہمدرد سیٹلڈ ایریاز میں بھی موجود ہیں، یہاں ہر بڑے شہر کے ساتھ قبائلی علاقہ جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے چیکنگ کا نظام بھی فعال نہیں ہو پاتا ہے، دہشت گرد اور ان کے ہمدرد بھی باآسانی عوام میں گھل مل جاتے ہیں، ان لوگوں کے خلاف کریک ڈائون بھی انتہائی ضروری ہے، سیاستدانوں کو بھی اپنی مصلحتیں اور تعصبات سے نکل کر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

سیکیورٹی ادارے اپنی استعداد کار بڑھائیں اور چند مخصوص لوگوں یا پھر اہم عمارتوں کو جن میں تھانے بھی شامل ہیں کو تحفظ دینے کی پالیسی ترک کر کے عام شہریوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، خصوصاً جب محرم الحرام کی آمد آمد ہو، اس سلسلے میں عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت کی فضاء برقرار رکھتے ہوئے ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور جہاں بھی کوئی مشکوک شخص یا کوئی اشیاء وغیرہ نظر آئیں اس کی فوری اطلاع متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو دیں اور ان اداروں کے اہل کاروں کے ساتھ بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون جاری رکھیں۔