چیف جسٹس کی صائب باتیں

یہ حقیقت ہےکہ68سال گزرجانےکےباوجودملک کوفلاحی ریاست نہیں بنایا جاسکا اورمسلسل ناکامیوں کے باوجود کسی نے سبق نہیں سیکھا


Editorial March 07, 2016
عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ جج حضرات، پولیس، وکلاء اور دیگر افراد کو مصالحت کے لیے تربیت دی جائے۔ فوٹو: فائل

MANSEHRA: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے ہفتے کو نیشنل سینٹر فار ڈسپیوٹ ریزولوشن کے تحت منعقدہ پاکستان کے پہلے مصالحتی سیمینار اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر کچھ مخصوص گروہوں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے، عام آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا محال ہے، ملک بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قوم سچے رہنماؤں سے محروم ہوگئی، اس لیے 68سال گزر جانے کے باوجود ملک کو اسلامی فلاحی ریاست نہیں بنا سکے، ہم نے مشرقی پاکستان اور بنگالی بھائیوں کو کھودیا اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود سبق نہیں سیکھا، قوم لسانی، علاقائی، مذہبی، دیہی، شہری اور دیگر ناموں سے تقسیم ہوگئی۔

یہ ہماری ناکامیوں کا پس منظر ہے تاہم دوسری جانب ہمیں سمندر، پہاڑ، دریا اور سورہ رحمن میں بیان کی گئی نعمتوں کی طرح اللہ کا کرم حاصل ہے، اگر ان تمام وسائل سے درست فائدہ اٹھایا جائے تو 5/10سال میں صورتحال تبدیل ہوجائے اور یہ ملک دنیا کا بہترین ملک بن جائے، عدلیہ کو کچھ مسائل کا سامنا ہے لیکن جلد ہی یہ اس قابل ہوجائے گی کہ قوم اس پر فخر کرسکے، وہ پور ی ذمے داری سے کہتے ہیں کہ ملک میں عدالتی نظام میںکوئی خرابی نہیں، یہ بہترین اور آزمودہ نظام ہے جس کی دوسرے ممالک بھی تقلید کرتے ہیں اور یہ دیگر ممالک میں مثبت نتائج دے رہا ہے لیکن کسی نظام کا انحصار نظام کو چلانے والے پس پردہ افراد کے کردار پر ہوتا ہے، موجودہ عدالتی نظام پر تنقید بلاجواز ہے، معتبر ادارے نہ ہونے کی وجہ سے عدالتی نظام انصاف کی فراہمی میں کردار ادا نہیں کر سکتا، اس طرح مقدمات جمع ہوتے جاتے ہیں۔

جج حضرات، پولیس، وکلاء اور دیگر افراد کو مصالحت کے لیے تربیت دی جائے، اس کے لیے این سی ڈی آر کی تحقیق اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلاشبہ عدالتی کارروائی ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہے، بروقت فیصلے نہ ہونے کے سبب مقدمات کی کثیر تعداد تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے جو وقت کے ضیاع ، فریقین کے لیے ذہنی اور جسمانی تکالیف کا باعث بنتی ہے، تنازعات کے حل کے لیے صرف شہری علاقوں میں اقدامات کیے جاتے ہیں جب کہ دیہی علاقوں میں فیصلے جرگے کے ذریعے کیے جاتے ہیں جو درست نہیں ہوتے۔

2009ء میں مرتب کردہ نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت بڑے شہروں میں تنازعات کے حل کی تجویز تھی اب یہ ارکان پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کا جائزہ لیں کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا انھیں چاہیے کہ وہ اس معاملے پر اپنا کردار ادا کریں۔ انصاف کے حصول کے متبادل نظام کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا سمیت مقتدر ادارے مثبت کردار ادا کریں۔ ہمارے معاشرے میں مقدمہ بازی کو نمٹانے کے بجائے فروغ دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے جن مسائل کی نشاندہی کی وہ بالکل درست ہیں، یہ حقیقت ہے کہ 68 سال گزر جانے کے باوجود ملک کو فلاحی ریاست نہیں بنایا جا سکا اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود کسی نے سبق نہیں سیکھا اور نظام کو درست کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی۔ جہاں تک نظام کا تعلق ہے تو وہ بالکل درست ہے لیکن جب اس کے چلانے والے اس نظام کے برعکس اپنے من مانے فیصلے کریں گے تو مسائل جنم لیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے بالکل صائب کہا کہ خرابی نظام عدل میں نہیں، قانون کو عملی جامہ پہنانے والوں میں ہے۔

قانون کو عملی جامہ پہنانے والوں ہی نے اس نظام کو پس پشت ڈالتے ہوئے خرابیاں پیدا کی ہیں تو ان کا احتساب بھی ہونا چاہیے، جو آج تک نہیں ہوا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عدالتی کارروائی ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہے اور بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہو جاتی ہے جو فیصلوں میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ فریقین کو بھی ذہنی اور جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انصاف کی فراہمی کو بروقت یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معتبر ادارے بھی اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں، معتبر ادارے نہ ہونے سے انصاف کی بروقت فراہمی میں بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو متحرک کرے کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کمزور انتظامیہ عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مقدمات کی بھرمار ختم کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) 1908 کی دفعہ 89 میں ترمیم کر کے روایتی نظام عدل کو متبادل مصالحتی طریقہ کار میں تبدیل کرایا، اس نظام کے نفاذ کے بعد عدالتوں میں مقدمات کم ہو جائیں گے۔ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ جج حضرات، پولیس، وکلاء اور دیگر افراد کو مصالحت کے لیے تربیت دی جائے۔