دودھ کی من مانی قیمت پر فروخت روکی جائے

حکومت کو دودھ کی قیمتیں کم ترین سطح پر لانی چاہئیں، کیونکہ یہ عوامی صحت کا معاملہ ہے۔


Editorial March 08, 2016
حکومت گراں فروشوں اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور دودھ کی قیمت کم کرے۔ فوٹو:فائل

کراچی میں دودھ کی سرکاری قیمت 10 روپے اضافے کے بعد 80 روپے مقرر ہونے کے باوجود دودھ فروش 84 سے 94 روپے فی لیٹر فروخت کررہے ہیں، جس سے حکومتی رٹ کی ناکامی ظاہر ہورہی ہے۔ دودھ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں متوسط اور غریب طبقے کی قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں ۔

ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ جانوروں کے لیے چارے کی مہنگی قیمتوں پر دستیابی کے باعث دودھ کی قیمتیں کم نہیں کی جاسکتیں، جب کہ حکومت اگر کسی شے کے نرخ مقرر کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد لازمی ہونا چاہیے۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر مشتمل ہے وہاںاصولی طور پر دودھ اور اناج سستا ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں حالات اس کے برعکس ہیں۔

جائزہ لیا جائے تو حالیہ 10روپے فی لیٹر کا اضافہ بھی جائز نہیں، حکومت کو دودھ کی قیمتیں کم ترین سطح پر لانی چاہئیں، کیونکہ یہ عوامی صحت کا معاملہ ہے۔ نیز دودھ کا خالص اور معیاری ہونا بھی شرط ہے، جب کہ علم میں آیا ہے کہ دودھ فروش قیمتوں کے ساتھ ساتھ کھلم کھلا غیرمعیاری دودھ بھی فروخت کررہے ہیں، صوبائی فوڈ قوانین کے مطابق حکومتی سطح پر 5 فیصد چکنائی کے حامل دودھ کی قیمت مقرر کی جاتی ہے تاہم 2 سے 3 فیصد چکنائی کا حامل پانی اور دیگر اجزا کا ملاوٹ شدہ دودھ بھی مقررہ سرکاری قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔

سرکاری سطح پر دودھ کے معیار کے فوری جانچ کا کوئی انتظام نہیں۔ حکومت کو ڈیری فارمرز کے اعتراضات دور کرتے ہوئے چارے کی قیمتوں کو مناسب سطح پر لانا چاہیے، نیز سستے اور معیاری دودھ کی دستیابی عوام کا حق ہے جسے ہر حال میں صارفین تک پہنچنا چاہیے۔ حکومت گراں فروشوں اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے اور دودھ کی قیمت کم کرے۔