اغوا شدہ افراد کو بازیاب کرایا جائے

بلوچستان کا خطہ ایک عرصہ سے شورش میں مبتلا ہے جہاں ملک دشمن و شرپسند عناصر محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں


Editorial March 10, 2016
امید کی جانی چاہیے علی حیدر گیلانی سمیت دیگر اغوا کنندگان کو بھی جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کو ساڑھے 4 سال بعد کوئٹہ کے قریب کچلاک سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے اغوا کاروں کی جانب سے شہباز تاثیر کو کچلاک میں رکھے جانے کی اطلاع پر مشترکہ کارروائی کی جہاں کچے مکان سے مغوی کو بازیاب کرایا گیا تاہم ملزم فرار ہوگئے۔

ملک میں مقتدر شخصیات، کاروباری افراد، صنعتکار، وکلا، ڈاکٹرز اور ان کے رشتے داروں کا تاوان اور دیگر مقاصد کے لیے اغوا اور لاپتہ ہونے کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ گورنر پنجاب کے بیٹے سمیت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کا اغوا ملزمان کی طاقت اور رسائی کا برملا اظہار ہے۔ بلاشبہ شہباز تاثیر کی بازیابی کو اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اغوا کے بعد شہباز کو شمالی وزیرستان میں رکھا گیا، ملزم پھر انھیں لے کر افغانستان فرار ہوگئے تاہم کچھ ماہ قبل کچلاک میں مقیم ہوگئے تھے۔ اغوا کاروں میں طالبان اور کالعدم تنظیموں کے نام سامنے آنے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اغوا کا مقصد تاوان کی خطیر رقم سے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے ساتھ بااثر اور مقتدر حلقے کو اپنے دباؤ میں لانا تھا۔

بلوچستان کا خطہ ایک عرصہ سے شورش میں مبتلا ہے جہاں ملک دشمن و شرپسند عناصر محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں، دوسری جانب بلوچستان کے عوام ہشت پہلو مسائل کا بار اٹھانے کے ساتھ امن و امان کی ناقص صورتحال اور ریاست و دہشت گردوں کے مابین لڑی جانے والی چومکھی لڑائی میں پھنسے حالات کے معتدل ہونے کے منتظر ہیں۔ صنعتکاروں، سیاسی و کاروباری اغوا کنندگان کی بازیابی نہایت اہم ہے۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے پیچھے کارفرما سوچ واضح ہے۔

اغوا کنندہ افراد اسی دھرتی کے بیٹے ہیں اور اپنے عوام کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ حکومت کو خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے ساتھ اغوا شدہ افراد کی بازیابی کے لیے فعال ہونا ہوگا۔ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

مگر کراچی سمیت ملک کے دیگر کئی مقامات پر شہریوں کے اغوا برائے تاوان کی ظالمانہ وارداتوں کی اطلاعات عوام کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے علی حیدر گیلانی سمیت دیگر اغوا کنندگان کو بھی جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔