ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میچبھارت کے لیے امتحان

دنیا کی بڑی سیکولر جمہوریت کو خود ان کے ہندو انتہاپسندوں کی نفرت آمیز یلغار کا سامنا ہے۔


Editorial March 10, 2016
دنیا کی بڑی سیکولر جمہوریت کو خود ان کے ہندو انتہاپسندوں کی نفرت آمیز یلغار کا سامنا ہے۔ فوٹو؛ فائل

پاک بھارت تعلقات کے تہلکہ خیز اور وسیع ترتناظر میں ایک بار پھر برصغیر کی تاریخ کرکٹ ڈپلومیسی کی طرف رجوع کر رہی ہے اور دنیا کی بڑی سیکولر جمہوریت کو خود ان کے ہندو انتہاپسندوں کی نفرت آمیز یلغار کا سامنا ہے ۔

انتہا پسند جتھے پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچ کے بیچ نفرت و کشیدگی کی دیوار بن جانے کے جنون کا ایک بار پھر مظاہرہ کررہے ہیں جس کے باعث انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ2016 ء کا 19 مارچ کو دھرم شالا میں ہونے والا پاک بھارت میچ سیکیورٹی خدشات پرکولکتہ کے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نئے شیڈول کے مطابق پاکستانی ٹیم جمعہ کو نئی دہلی پہنچے گی اور اس کے بعد اسے کولکتہ پہنچ کر ہفتہ کو مقامی سائیڈ سے وارم اپ میچ کھیلنا ہوگا جب کہ بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم نے ایڈن گارڈن کولکتہ کی پچ بھی اکھاڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت میں کہیں بھی میچ نہیں کھیلنے دیں گے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد دھرم شالا سے میچ کولکتہ کے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم منتقل کردیا گیا ہے۔

پاک بھارت کرکٹ میچز کا ماضی بھی اپنے گرما گرم سیاق وسباق میں کولکتہ ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم کی ایک متحارب ، غضبناک اور پر تشدد ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی تصویر پیش کرتا رہا ہے، وہاں کے شائقین سے ہار بھی برداشت نہیں ہوتی، تاریخی اہمیت کا حامل ایڈن گارڈنزتنازعات کے باعث خاصا بدنام ہے۔

1966-67ء میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ یہاں دوسرے ٹیسٹ میں مقامی منتظمین نے گنجائش سے زیادہ ٹکٹیں فروخت کیں جس کی وجہ سے اندر جانے سے محروم ہونے والے شائقین نے ہنگامہ کھڑا کردیا، رکاوٹیں پھلانگ کر اندر پہنچے، اسٹینڈز اور پویلین کو نذر آتش کیا، پچ پر آگ جلائی، گڑھے کھود دیے اور اس کے بعد متعدد بار ہنگاموں ، لاٹھی چارج،آنسو گیس کے باعث بدنظمی میں میچز ہوتے رہے۔اس لیے جنونی شائقین کے غیظ وغضب کے امکانات و خطرات کے پیش نظر پاکستانی ٹیم کی مکمل سیکیورٹی اور تحفظ کو یقینی دیکھنے کے بعد ہی ٹیم کو کلیئرنس دی جانی چاہیے۔

ایک اسپورٹس ایونٹ کے دوران اس افسوسناک صورتحال کو جاری رہنے دیا گیا تو عالمی مبصرین سمیت دنیائے کرکٹ اسے مودی سرکار کا انتہا پسندوں کے سامنے سرنڈر ہی سمجھے گی یا بھارتی حکومت خود اندر سے دوعملی اور ڈرامہ بازی کی اجازت دے کر اسپورٹسمین شپ کا جنازہ نکالنے کی تیاریوں میں مشغول رہنا چاہتی ہے، تاکہ میچ نہ ہو اور بلوائی فتح یاب ہوں۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ ویر بہادرا نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے ہماچل پردیش کو دنیا بھر میں بدنام کردیاہے مگر یہ بدنامی صرف ہماچل کی نہیں بھارتی جمہوریت اور نام نہاد سیکولرازم کی ہے جو کھیل کو جنگ اور جنگ کو کھیل سمجھنے کی دیوانگی میں مبتلا سیاست دانوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔

آئی سی سی چیف کے مطابق پاکستان نے سیکیورٹی خدشات پر دھرم شالا میں میچ کھیلنے سے معذرت کی تھی، انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی چیلنجزکہیں پر بھی ہوسکتے ہیں،کولکتہ میں میچ کا انعقاد موجودہ حالات میں سب سے بہتر آپشن ہے، بھارتی کر کٹ بورڈ نے یقین دلا دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو ہرطرح کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، بھارتی ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے بھارت جانے کے خواہشمند افراد کو ویزے جاری کریں گے۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کی ذمے داری بھارتی حکومت اور آئی سی سی پر ہوگی تاہم اگر وزارت داخلہ مطمئن ہے تو ٹیم بھیجی جائے۔ مسلم لیگ(ق) کے رہنماء سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی میزبانی ، سیکیورٹی فراہم کرنے اور خوش آمدید کہنے کے لیے تیار نہیں تو اسکو بھارت نہیں جانا چاہیے ۔ یہ ٹورنامنٹ اصل میں بھارتی حکومت کا امتحان ہے۔

پاک بھارت میچز چاہے وہ کسی گیمز میں ہوں ہمیشہ ایک اعصابی جنگ میں بدلنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں جسے اسپورٹس مین اسپرٹ کی نئی تفہیم دینے کی ضرورت ہے کیونکہ کھلاڑی اپنے ملک کے ترجمان اور گلیڈی ایٹر نہیں محبتوں کے پرامن سفیر ہوتے ہیں۔کھیل بین الاقوامی خیرسگالی، باہمی دوستی اور امن و یکجہتی کے مشترکہ عالمی مشن سے مربوط ہیں، مسابقت کھیل کا ناگزیر جزو ہے مگر بھارتی قیادت اور کرکٹ بورڈ حکام کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے با وقار، پر امن اور شایان شان انعقاد کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لانا چاہیے، بھارت کے ہندو انتہا پسند کھیلوں کی روح اور اس کے پیغام کو قتل کرنے سے پہلے سوچیں کہ وہ بھارتی جمہوریت اور مودی حکومت کو کسی ہولناک آزمائش میں تو نہیں ڈال رہے۔

ایڈن گارڈنز کے اسٹیڈیم کو فول پروف ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا انتظار ہے۔ پاکستانی ٹیم نے ایک مشکل مرحلہ میں بھارت جاکر میچ کھیلنے کا چیلنج قبول کیا ہے، اس کرکٹ ڈپلومیسی کو راستہ دیجیے تاکہ دیگر میچز کی طرح پاک بھارت میچ کی بھی ایک نئی تاریخ رقم ہو۔