مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے

اجلاس میں نیپرا کی مجموعی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا.


Editorial November 09, 2012
کونسل کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزیروں نے شرکت کی۔ فوٹو: فائل

مشترکہ مفادات کونسل نے تمام صوبوں میں بجلی کی مساوی تقسیم کی سفارشات کی منظوری دیدی ہے۔

کونسل کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزیروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کی قائمہ کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کی سربراہی سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کریں گے ۔ کمیٹی وفاقی قانون سازی کی فہرست کے حوالے سے تمام مقدمات اور ایشوز کا جائزہ لے گی اور اس سلسلے میں سفارشات مرتب کرے گی۔ وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی نرگس سیٹھی نے کے ای ایس سی کے بارے میں رپورٹ پیش کی جو اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ کے ای ایس سی کو 650 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سے فراہم کی جاتی تھی ۔ اجلاس میں نیپرا کی مجموعی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نیپرا کے پاس کوئلہ پر چلنے والے پاور پلانٹس کے ٹیرف کے تعین کے لیے مطلوبہ اہلیت اور استطاعت ہونی چاہیے۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ٹیرف کا مناسب ہونا ضروری ہے۔

اجلاس کو بجلی چوری روکنے کے قوانین پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے بجلی چوری روکنے اور واجبات کی وصولی کے لیے پولیس افسروں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اجلاس میں ملک میں بجلی کی تقسیم کو مساوی بنانے کے لیے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی گیارہ سفارشات کا جائزہ لیا گیا، جن میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے درمیان بجلی کی تقسیم کے موجودہ فارمولا پر 2006سے عملدرآمد جاری ہے اور یہ فارمولا تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس میں صوبائی حکومتیں بطور سرمایہ کار کے ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر چلانے کے لیے تیار کی گئی تجاویز اور اسکیموں پر صوبوں کی جانب سے تفصیلی جائزہ کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعظم نے سرکاری محکموں کو بجلی کے واجبات فوری ادا کرنے کا حکم دیا اور کہا بلنگ کی شکایات کا ازالہ ایک ماہ کے اندر کیا جائے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے بجلی کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں، وہ اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے مستقبل میں اچھے نتائج پیدا ہوں گے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر اس روح کے مطابق عمل کیا جائے۔