پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی

جنرل (ر) پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کا معاملہ آئین و قانون سے جڑا ہوا ہے


Editorial March 19, 2016
سابق صدر کی بیرون ملک روانگی کے بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کمر کی تکلیف کا علاج کرانے کے لیے گزشتہ روز دبئی چلے گئے،وزارت داخلہ نے ان کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ اس کے بعد ان کی بیرون ملک روانگی ممکن ہوئی،اطلاعات کے مطابق وہ دبئی سے امریکا چلے جائیں گے،جہاں وہ اپنا علاج کرائیں گے۔

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویزمشرف کوبیرون ملک جانے کی اجازت دی، ان کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کے وکلاء نے ای سی ایل سے ان کانام نکالنے کے لیے دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ وہ علاج کی خاطر 4 سے6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جائیں گے اور اپنے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہوں گے۔

سابق صدر کی بیرون ملک روانگی کے بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف قسم کی باتیں ہو رہی ہیں،پیپلز پارٹی اس حوالے سے حکومت پر تنقید کر رہی ہے جب کہ مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ حکومت نے عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کا معاملہ آئین و قانون سے جڑا ہوا ہے،سب کچھ آئین و قانون کے مطابق ہوا ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس معاملے پر آئین و قانون کے تناظر میں ہی بات کی جائے اور اسے سیاسی ایشو بنانے سے گریز کیا جائے۔