جوہری ترمیمی کنونشن کی توثیق

ایٹمی معاملات میں پاکستان کاکردارانتہائی ذمےدارانہ ہےپاکستان میں کسی ایٹمی تنصیب میں کبھی کوئی ناخوشگوارواقعہ نہیں ہوا


Editorial March 23, 2016
پاکستان کی اس شعبے میں فنی مہارت اور صلاحیت اب پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے فوٹو: فائل

ISLAMABAD: پاکستان نے جوہری موادکے تحفظ کے ترمیمی کنونشن کی توثیق کردی ہے ۔ ترجمان دفترخارجہ نے پیرکو ایک بیان میں کہاکہ جوہری مواد کے تحفظ کے ترمیمی کنونشن کی توثیق کی دستاویزپرصدر ممنون حسین نے وزیراعظم نوازشریف کی ایڈوائس پر دستخط کیے۔ 24فروری کو وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے ترمیمی کنونشن کی توثیق کی اصولی طور پرمنظوری دی تھی۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے جوہری موادکے تحفظ کے ترمیمی کنونشن کی توثیق اس کے ایک ذمے دارانہ ایٹمی ریاست ہونے کاآئینہ دارہے۔

عالمی ادارہ ایٹمی توانائی (آئی اے ای اے )کے تعاون سے اسلام آباد میں جوہری سلامتی تربیت کی 5روزہ سالانہ کانفرنس 14سے 18مارچ تک ہوئی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں پاکستان نے جوہری مواد کے تحفظ کے ترمیمی کنونشن کی توثیق کی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ انتہائی اہم کانفرنس تھی' کیونکہ پہلی مرتبہ یہ کانفرنس آئی اے ای اے ہیڈکوارٹرز کے علاوہ کسی دوسرے ملک یامقام پر ہوئی۔ یوں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر کے باہر یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس میں 29 ممالک کے 56حکام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں امریکا، چین،برطانیہ، روس، جاپان، برازیل، افغانستان، بلغاریہ، چلی،جبوتی، ایکواڈور،گھانا، انڈونیشیاء، جنوبی افریقہ، سوڈان، تھائی لینڈ، اردن، قازقستان، کینیا،کوریا، لبنان، یوکرائن اور ویتنام کے نمایندگان بھی موجود تھے۔ کانفرنس میں ورلڈ انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سیکیورٹی اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے نمایندگان نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس کا انعقاد پاکستان پر عالمی برادری اور آئی اے ای اے کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔

بلاشبہ ایٹمی معاملات میں پاکستان کا کردار انتہائی ذمے دارانہ رہا ہے' پاکستان میں کسی ایٹمی تنصیب میں کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کا کمانڈ اور اینڈ کنٹرول سسٹم مثالی ہے' امریکا اور دیگر ایٹمی قوتیں بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتی آ رہی ہیں۔جوہری مواد کا تحفظ کرنا ہر ایٹمی ملک کا اولین فرض ہے۔

ایٹمی مواد اور ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی سب پر واضح ہے' اس لیے ایٹمی مواد کے تحفظ کے لیے ایٹمی طاقتوں اور آئی اے ای اے اور دیگر ذیلی اداروں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ پاکستان کی اس شعبے میں فنی مہارت اور صلاحیت اب پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔ یہی ایک ذمے دار ایٹمی ملک ہونے کا ثبوت ہے۔