برسلز میں دہشت گردی

دھماکوں کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی اور دہشت گردی کی سنگینی ایک بار پھر پوری دنیا پر واضح ہو گئی


Editorial March 23, 2016
دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت اور استحصال نے ترقی یافتہ ممالک کے خلاف ایک ردعمل پیدا کیا ‘یہ ردعمل دو رخا ہے، فوٹو : اے ایف پی

ISLAMABAD: یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹرز اور بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یکے بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے' یہ دھماکے برسلز ایئر پورٹ' میٹرو اسٹیشن میں اور صدارتی محل کے قریب ہوئے۔ ان دھماکوں کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی اور دہشت گردی کی سنگینی ایک بار پھر پوری دنیا پر واضح ہو گئی۔

ان دھماکوں میں28کے قریب ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ممکن ہے ان میں اضافہ ہو جائے۔برسلز میں ہونے والے دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند روز قبل پیرس حملوں کے ایک مبینہ ملزم صالح عبدالسلام کو ایک کارروائی کے دوران زخمی حالت میں برسلز سے گرفتار کیا گیا جب کہ اس کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کو کارروائی کی جگہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیزمواد بھی ملا تھا' مغربی میڈیا کے مطابق اپنی گرفتاری کے بعد صالح عبدالسلام نے برسلز میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھی اعتراف کیا تھا ۔

اطلاعات کے مطابق 26سالہ صالح عبدالسلام برسلز میں پیدا ہوا ہے اور 13نومبر کو پیرس حملوں کے بعد بیلجیئممیں روپوش ہو گیا تھا۔گزشتہ سال نومبرمیں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث اکثر کرداروں کی نشاندہی ہو گئی تھی۔ زیادہ تر مشتبہ افراد یا تو حملوں کے دوران گرفتار ہو گئے اور بعض پولیس کی ریڈ میں مارے گئے۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ سارے افراد برسلز میں ہی مقیم تھے' صالح عبدالسلام بھی ان میں سے ایک کردار تھا' برسلز میں ہونے والے حملے اس کی گرفتاری کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد اس کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہواور انھوں نے گرفتاری یاپولیس سے مقابلے میں مرنے سے قبل کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بہر حال برسلز میں جو کچھ ہوا' وہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ اس کارروائی کا نشانہ بننے والے بے گناہ انسان ہیں۔ دہشت گردی کا عفریت یورپ میں بھی اپنے گل کھلا رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس قسم کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے یورپ میں بسنے والے مسلمان خود کو خوفزدہ محسوس کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد یورپ' امریکا اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ردعمل پیدا ہوا ہے' امریکا میں تو صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ایک امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ برسرعام مسلمانوں کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔ بہر حال برسلز کی دہشت گردی کی تمام مسلمان ممالک کو مذمت کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں کو بھی اس کی مذمت کرنی چاہیے۔

برسلز میں ہونے والی دہشت گردی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی دہشت گرد متحرک ہیں' حالانکہ وہاں کا نظام نقائص سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ وہاں تعلیم کی شرح بھی زیادہ ہے' روز گار بھی موجود ہے اور زندگی کی آسائشیں بھی۔ بیلجیئم میں اسلحہ رکھنا اور دوسرے کسی ملک سے یہاں لانا بھی انتہائی مشکل کام ہے' برسلز میں انٹیلی جنس سسٹم بھی انتہائی متحرک ہے لیکن اس کے باوجود اس دہشت گردی کا کسی ادارے کو پتہ نہیں چل سکا۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ یورپ میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں وہ مسلم نوجوان ملوث پائے گئے ہیں جو یورپ میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم حاصل کی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی ممالک میں بسنے والے مسلمان وہاں خود کو کمتر سمجھتے ہیں' یورپی باشندے بھی انھیں اپنا تسلیم نہیں کرتے۔مختلف نوعیت کی نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار مسلم نوجوان آسانی سے انتہا پسندی کی جانب راغب ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ایک وجہ امریکا اور یورپی ممالک کی عالمی پالیسیاں بھی ہیں۔

ان پالیسیوں کے باعث دنیا میں خوشحالی کا تناسب بری طرح بگڑ رہا ہے۔ اس وقت دنیا پر نظر ڈالیں تو چند ایک ممالک کو چھوڑ کر پورا براعظم افریقہ غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ خانہ جنگی ہو رہی ہے' حالانکہ یہ براعظم ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہے' لیکن ترقی یافتہ ممالک کی بے رحمانہ پالیسیوں نے ان کے وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے اور ساری خوشحالی امریکا' لاطینی امریکا اور مغربی یورپ کے ملکوں کی طرف رخ کر رہی ہے۔ براعظم ایشیا پر نظر دوڑائیں تو یہاں بھی چند خلیجی ریاستوں 'جاپان ' جنوبی کوریا'تائیوان 'سنگاپور' کسی حد تک ملائیشیا خوشحال اور ترقی یافتہ ہیں۔

باقی پورا ایشیا بھی پسماندگی اور غربت کا شکار ہے۔ وطن عزیز بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت اور استحصال نے ترقی یافتہ ممالک کے خلاف ایک ردعمل پیدا کیا 'یہ ردعمل دو رخا ہے۔ اس کا ایک رخ یہ ہے کہ پسماندہ اور غریب ممالک کے باشندے ہجرت کر کے یورپ اور امریکا میں آباد ہونا چاہتے ہیں اور اس کا دوسرا رخ دہشت گردی ہے۔ان پہلوؤں پر بھی ترقی یافتہ ملکوں کو سوچنا چاہیے۔