ٹنڈو محمد خان میں زہریلی شراب سے ہلاکتیں

شراب ویسے بھی مضر صحت ہے اس پر مستزاد کچی اور زہریلی شراب کا استعمال خودکشی کے مترادف ہے


Editorial March 23, 2016
بااثر افراداورانتظامیہ کی سرپرستی میں کچی شراب بنانے والی بھٹیوں اور فروخت کنندگان کا قلع قمع کرنا ازحد ضروری ہے. فوٹو: فائل

سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں گزشتہ روز مبینہ طور پر کچی یا زہریلی شراب پینے سے 2 خواتین سمیت 15 افراد ہلاک جب کہ 25 افراد متاثر ہوئے۔ پاکستان میں کھلے عام شراب کی فروخت اور تیاری ممنوع ہے، لیکن ملک بھر میں یہ غیر قانونی کام جاری و ساری ہے جس کی ہلاکت خیزی کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔

زہریلی شراب پینے سے اتنی زیادہ ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی ملک کے مختلف شہروں بشمول لاہور، راولپنڈی، کراچی و حیدرآباد اور دیگر چھوٹے شہروں اور دیہات سے ایسے حادثات کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ گاؤں دیہات میںشادی بیاہ اور تہواروں کے مواقع پر کھلے عام کچی شراب دستیاب ہوتی ہے،جو مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے۔شہروں اور دیہات کے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ کچی شراب کا استعمال کرتے ہیںکیونکہ یہ انتہائی سستے داموں مل جاتی ہے۔جس میں اسپرٹ بھی شامل ہوتا ہے جس سے ہلاکت خیزی بڑھ جاتی ہے۔

شراب ویسے بھی مضر صحت ہے اس پر مستزاد کچی اور زہریلی شراب کا استعمال خودکشی کے مترادف ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں ہونے والے واقعے کے بعد اہل علاقہ نے احتجاج کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کی معطلی اور تنزلی کے احکامات جاری کردیے ہیں، جب کہ پولیس نے کارروائی کے دوران 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ صائب ہوگا کہ حقیقی عملی اقدامات کی جانب پیش قدمی کی جائے۔

بااثر افراداورانتظامیہ کی سرپرستی میں کچی شراب بنانے والی بھٹیوں اور فروخت کنندگان کا قلع قمع کرنا ازحد ضروری ہے۔ راست ہوگا کہ شراب نوشی کی ہلاکت خیزی کا شعور بیدار کرنے کے لیے عوام میں آگاہی مہم شروع کی جائے۔ مناسب ہوگا کہ غیرقانونی طور پر نشہ آور اشیا کی فروخت اور تیاری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔