پانی کا مسئلہ پہلوتہی نہ برتی جائے

پاکستان میں مناسب حکمت عملی نہ ہونے کے باعث بھی پانی کی بڑی مقدار ضایع ہو رہی ہے


Editorial March 24, 2016
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پانی کی قدر کریں اور پانی کے اسٹوریج کے لیے جلد سے جلد آبی ذخائر بنائیں۔ فوٹو: فائل

راولپنڈی: پانی کے عالمی دن کے موقع پر ایکسپریس میڈیا گروپ اور پاک اوسس کے اشتراک سے ''پانی ہے زندگی'' کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان دنیا میں پانی کی شدید کمی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے، ہمیں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بنانا ہوگا۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔

دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے لیکن اس سنگین ترین مسئلے کی جانب سے مستقل پہلوتہی برتی جارہی ہے جو مستقبل میں نوع انسانی کے لیے خطرناک نتائج کا حامل ہوگا۔ دنیا میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور اثرات کے باعث پانی کی قلت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، اس صورتحال میں ہمیں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں پانی کے مناسب استعمال کے لیے عوامی شعور و آگاہی کے پروگرام مرتب کرنے چاہئیں، دنیا کو اس وقت پانی کے ذخیروں کو محفوظ بنانا ہوگا۔

نیز پاکستان میں مناسب حکمت عملی نہ ہونے کے باعث بھی پانی کی بڑی مقدار ضایع ہو رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں سالانہ 18 ارب ڈالر کا پانی ضایع ہورہا ہے، اس وقت 180 ایکڑ ملین فٹ پانی میں 97 ملین ایکڑ فٹ نہروں میں جب کہ 30 ملین ایکڑ فٹ بغیر استعمال کے ضایع ہورہا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ صوبوں کے مابین اتفاق رائے نہ ہونے سے نہ صرف ہم پانی کے بڑے ذخائرضایع کررہے ہیں بلکہ آئے روز سیلاب کی صورت میں انسانی جانوں اور اربوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کرتے ہیں۔

پاکستان میں نہ صرف زیر زمین پانی میں کمی آرہی ہے بلکہ سیلابی پانی روکنے اور انھیں محفوظ بنانے کے لیے ڈیموں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ آیندہ آٹھ دس سال کے دوران پانی کے نئے ذخائر نہ بنائے گئے تو پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ملک میں پانی کے ذخائرساڑھے 4 ہزاربلین ایکڑفٹ سے کم ہوکر ایک ہزار بلین ایکڑ فٹ رہ گئے، زیرزمین پانی کی سطح میں کمی سے صوبوں کے درمیان تنازعات ابھرنے کا خطرہ ہے، سیاسی جماعتیں ڈیمز پر سیاست کرنے کے بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کریں، پانی جیسے اہم ایشو پر صوبائی تعصب سے باہر نکل کر پاکستانیت کی نظر سے سوچنا ہوگا۔

بلاشبہ حکومت زیرزمین پانی کے ذخائر بڑھانے اور توانائی بحران کے خاتمے کے لیے نئے ڈیموں کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کا مرحلہ آیندہ ماہ تک مکمل ہوجائے گا، امید ہے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے جلدکام شروع کردیا جائے گا۔ ڈیمز کی تعمیر میں تاخیر کی اب کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ جس قدر تاخیر ہوگی، اتنا ہی لاگت میں اضافہ ہوگا، نیلم جہلم منصوبہ 289 بلین سے شروع ہوا تھا جو تاخیر کے باعث 414 بلین تک چلا گیا، اہم ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے، اس ضمن میں نااہلی یا کوتاہی پر سزا و جزا کے نظام کا ہونا بھی ضروری ہے۔

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں جو بھی اہم منصوبے شروع کیے جاتے ہیں ان پر بے جا تنقید اوراعتراضات کیے جاتے ہیں، اب اس روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ پانی کے ضیاع کو روکنا صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ سول سوسائٹی سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پانی کی قدر کریں اور پانی کے اسٹوریج کے لیے جلد سے جلد آبی ذخائر بنائیں۔