یوم پاکستان کے تقاضے

اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے‘ حکومت مختلف تقریبات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔


Editorial/editorial March 24, 2016
اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے‘ حکومت مختلف تقریبات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔

RAWALPINDI: ملک بھر میں 76 واں ''یوم پاکستان'' ملی جوش و جذبے سے منایا گیا، دن کا آغاز نماز فجر کے بعد ملکی سلامتی، ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ وفاقی دارالحکومت میں31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21' 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے، ملک بھر میں عام تعطیل رہی۔

زندہ قوموں کے لیے ان کے قومی دن کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے چنانچہ اس دن کو خاص تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اقوام عالم اس دن کو اپنے وطن عزیز کے ساتھ تجدید عہد کے طور پر مناتی ہیں جب کہ نئی نسلوں کے دل میں بھی وطن سے محبت جگائی جاتی ہے۔ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے بڑی اور اہم تقریب مسلح افواج کی شاندار پریڈ تھی جس میں صدر، وزیراعظم، سروسز چیفس، غیرملکی مندوبین، سفارتکار اور اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ بطور مہمان خصوصی صدر مملکت نے پریڈ سے نہایت اہم خطاب کیا۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بلاجواز تنقید بند ہونی چاہیے جب کہ ہم ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہشمند ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ مسلح افواج نے بھرپور طریقے سے پریڈ اور فضائی مظاہرے کر کے ثابت کر دیا کہ ہماری افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ صدر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہمارا علاقہ جلد دہشتگردوں سے پاک ہو جائیگا۔ سلامی کے چبوترے پر وزیراعظم، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود تھے۔

پریڈ میں دفاعی اسلحے اور ساز و سامان کی متاثر کن نمائش کی گئی بلکہ بیلسٹک میزائل شاہین تھری کو بھی پہلی مرتبہ نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ مرکزی پریڈ کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس معطل رہی۔ چاروں صوبوں کے دارالحکومت میں بھی شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا' یوم پاکستان اور یوم آزادی تزک و احتشام سے منانا چاہیے لیکن اس موقع پر حکمرانوں' سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے اکابرین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وطن عزیز آج جن مصائب کا شکار ہے۔

اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے' حکومت مختلف تقریبات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن ادھر ملک کا عالم یہ ہے کہ بے روز گاری اور غربت کا دور دورہ ہے۔ دہشت گردی کو تو چھوڑیے' شہروں اور دیہات میں جرائم کی بھرمار ہے' سرکاری محکموں کے عمال اپنا فرض ادا نہیں کر رہے' قومی اسمبلی' سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی مراعات اور کم تنخواہوں کا رونا رو رہے ہیں' بیوروکریسی اپنی مراعات کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔

یہ بھی ایشوز ہیں جن پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ قومی تہوار ضرور پورے جوش و جذبے سے منانے چاہئیں لیکن حکومتی سطح پر گورننس کے معیار کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور دانشورانہ اور سیاسی سطح پر ایک جدید لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔