جشن ہولی اقلیتوں سے اظہار یکجہتی

جمعرات کو ہندو برادری نے اپنا مذہبی تہوار ’’ہولی‘‘ جوش و خروش سے منایا


Editorial March 24, 2016
جمعرات کو ہندو برادری نے اپنا مذہبی تہوار ’’ہولی‘‘ جوش و خروش سے منایا، فوٹو؛ فائل

KARACHI: جمعرات کو ہندو برادری نے اپنا مذہبی تہوار ''ہولی'' جوش و خروش سے منایا، اس موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے اقلیتوں سے اظہار یکجہتی اور برادرانہ جذبات کے تحت ہولی کے دن عام تعطیل کا اعلان کیا گیا جسے نہ صرف ملک بھر کی اقلیتی برادریوں کی جانب سے سراہا گیا بلکہ عالمی طور پر بھی اس اقدام کو قابل ستائش قرار دیا گیا۔

موجودہ قومی اسمبلی نے پاکستان میں آباد دیگر اقلیتی برادریوں کے تہوار کے موقع پر عام تعطیل کے حوالے سے 15 مارچ کو قرارداد منظور کی تھی تاہم اس پر عملدرآمد کرنے کا اولین اقدام سندھ حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق اور مکمل آزادی حاصل ہے، اقلیتوں کے مذہبی تہواروں پر عام تعطیل کا اعلان خوش آیند ہے جس سے اقلیتوں کے تحفظات دور کرنے میں مدد ملے گی۔

لاہور میں ہولی کی بڑی تقریب متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر اہتمام کرشنا مندر میں ہوئی، شرکا نے ایک دوسرے کے اوپر رنگ پھینکے، استحکام پاکستان و سلامتی کے لیے خصوصی پوجاپاٹ کی گئی۔ واضح رہے ملکی آبادی میں ہندوؤں کی شرح دو فیصد ہے جس میں سے زیادہ تر ہندو برادری صوبہ سندھ میں آباد ہیں۔ ہندو برادری کی سب سے بڑی تعداد ضلع تھرپارکر میں آباد ہے۔

تھرپارکر کی 16 لاکھ سے زائد آبادی کا تقریباً 60فیصد ہندو آبادی پر مشتمل ہے۔ ہولی ہو یا دیوالی، تھر میں ہندو برادری کا ہر تہوار مذہبی رواداری کی مثال ہے جہاں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں بھرپور طریقے سے منایا جانے والا ہولی کا تہوار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مکمل آزادی حاصل ہے۔