نظام کی خرابی اور ہماری ذمے داری

انصاف صرف عدالت نہیں بلکہ دیگر محکموں کی طرف سے بھی فراہم کیا جانا چاہیے.


Editorial March 24, 2016
انصاف صرف عدالت نہیں بلکہ دیگر محکموں کی طرف سے بھی فراہم کیا جانا چاہیے، فوٹو؛ فائل

عدالت عظمیٰ کے جسٹس امیر ہانی مسلم نے بدھ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے زیر اہتمام یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 17جج پورے ملک کو ٹھیک نہیں کر سکتے' قوم کو بھی کردار ادا کرنا اور اصلاحات کے لیے اپنے آپ کو درست کرنا ہو گا' ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ٹھیک کرنا نہیں چاہتے' پاکستان اور دیگر ممالک میں ڈسپلن کا فرق ہے۔

انصاف صرف عدالت نہیں بلکہ دیگر محکموں کی طرف سے بھی فراہم کیا جانا چاہیے' اگر 90 فیصد ادارے درست ہوں تو عدلیہ پر اتنا بوجھ نہیں ہو گا' ہماری بڑی کمزوری تعلیمی معیار کا خراب ہونا ہے' قانون میں سقم نہیں عدالتیں شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہیں' ہمارے ہاں ابتدا جھوٹ سے ہوتی ہے جب ابتدا جھوٹ سے ہو تو انصاف ممکن نہیں' پاکستان کے تمام مسائل کا حل رول آف لا میں ہے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے قوم کے کمزور کردار اور ملکی اداروں کی خراب کارکردگی کے حوالے سے جن امور کی نشاندہی کی اگر انھیں درست کر لیا جائے تو واقعی ملک میں انقلاب برپا ہو سکتا اور اس قوم کا شمار بھی ترقی یافتہ خوشحال قوموں میں ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج ملک کے تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں اور کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں جس کی کارکردگی کو مثال بنا کر پیش کیا جا سکے۔

اس خراب صورت حال کا ذمے دار کسی ایک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا' بحیثیت قوم ہم سب ملکی نظام کو خراب کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔ جسٹس ہانی نے بالکل صائب کہا کہ ہم اپنے آپ کو ٹھیک ہی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو روز روشن کی طرح عیاں ہے' ہم خود عملی طور پر کچھ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور چاہتے ہیں کہ تمام حکومتی ادارے اور نظام درست ہو جائے' خود کو بدلتے نہیں اور سارا نظام بدلنے کے خواہش مند رہتے ہیں۔

صرف خواہشوں سے نظام نہیں بدلا کرتے اس کے لیے عملی کوششیں کرنا اور قربانیاں دینا پڑتی ہیں،سب سے پہلے خود پر قانون لاگو کرنا پڑتا ہے۔ سب سے اہم بات درست راستے اور مثبت سوچ کا انتخاب ہے' اگر ہماری سوچ ہی بھٹکی ہوئی اور منزل کا واضح تعین ہی نہ ہو تو ایسے میں قومیں پسماندگی اور ادارے زبوں حالی کا شکار ہی رہتے ہیں۔ وہی پاکستانی جو بیرون ملک تمام قوانین کی پابندی کرتے اور ٹریفک سگنل تک توڑنے کی جرات نہیں کرتے وہی اپنے ملک میں قدم رکھتے ہی تمام اصول و ضوابط کو بھول جاتے ہیں۔

جسٹس امیر ہانی نے بھی قوم کے اس مزاج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لوگ دبئی سمیت بہت سے ممالک میں ٹریفک سگنل تک نہیں توڑ سکتے جب کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے' ہم خود اپنے آپ سے انصاف نہیں کرتے۔ جہاں تک تعلیمی نظام کی خرابی کا تعلق ہے تو مشاہدے میں آیا ہے کہ حکمران تعلیمی نظام بہتر بنانے کے جتنے دعویٰ کرتے ہیں تعلیمی نظام اتنا ہی خراب سے خراب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں پر نہ تو حکمرانوں کو اعتماد رہا اور نہ انتظامیہ اسے اہمیت دینے کے لیے تیار ہے۔

حکمرانوں اور سرکاری افسروں کے بچے سرکاری کے بجائے نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں تک عدلیہ کے شعبے کا تعلق ہے تو یہاں بھی عوام کو انصاف کے حصول کے لیے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے' معمولی مقدمات کے فیصلے ہونے میں کئی برس لگ جاتے ہیں اور یوں تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی ناانصافی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ جب تک تمام سرکاری ادارے درست نہ ہوں صرف 17جج پورے ملک کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عدلیہ ایک بااختیار اور طاقتور ادارہ ہے جو سسٹم کو بہتر بنانے اور فوری انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ملک کے مختلف شہروں سے چھوٹے چھوٹے لاکھوں کیسز آنے کے باعث عدالتوں میں کیسز کا انبار لگ جاتا ہے جنھیں بروقت حل کرنا ایک مشکل امر ہے۔ اگر مقامی سطح پر ہی معمولی نوعیت کے مقدمات کو حل کر لیا جائے تو عدالتوں پر پڑنے والے غیر ضروری بوجھ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مقامی سطح پر عدالتیں تشکیل دے۔ شہریوں کی سوچ میں تبدیلی لانے اور درست تعلیم و تربیت کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بعض اوقات شہری معمولی باتوں میں الجھ جاتے اور معاملات تھانے کچہریوں تک جا پہنچتے ہیں۔ روز بروز اس بگڑتے ہوئے نظام کو درست کرنا کس کی ذمے داری ہے۔ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے یا بیانات دینے سے یہ نظام درست نہیں ہوگا۔ کسی کو تو آگے بڑھ کر پہلا پتھر پھینکنا ہو گا۔