ناراض بلوچ رہنماؤں کوحکومتی رٹ ماننے کے لیے واضح پیغام دینے کا فیصلہ

حکومت نے طویل مشاورت کے بعدبلوچستان امن پروگرام کوموثراندازمیں آگے بڑھانے کافیصلہ کرلیا


Staff Reporter March 27, 2016
حکومت نے طویل مشاورت کے بعدبلوچستان امن پروگرام کوموثراندازمیں آگے بڑھانے کافیصلہ کرلیا:فوٹو: فائل

KHAR: وفاقی حکومت نے ناراض بلوچ رہنماؤں کو واضح پیغام دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، اگر مذاکرات چاہتے ہیں توریاست کی رٹ کو تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار پھینک دیں بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت مذاکراتی پالیسی کے تحت ناراض رہنماؤں دو ٹوک موقف کے تحت اب فیصلہ کن بات چیت کرے گی اور اس بات چیت کا پہلا ایجنڈا یہی ہو گا کہ تمام ناراض رہنما وطن واپس آئیں اورپاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہوئے ریاست سے وفاداری کاحلف لیں جس کے بعد اگلے امور طے کیے جائیں گے۔

اس پیغام کے تحت انھیں آگاہ کیا جائے گا کہ اگر وہ ریاست کی رٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں تو فوراً اس کا باضابطہ اعلان کریں ،حکومت نے طویل مشاورت کے بعدبلوچستان امن پروگرام کوموثراندازمیں آگے بڑھانے کافیصلہ کرلیا۔

حکومت نے خان آف قلات اور دیگر ناراض رہنماؤں سے پس پردہ بات چیت کے عمل کومزیدآگے بڑھانے کی پالیسی طے کر لی ہے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو ٹاسک دیا گیاہے کہ وہ مختلف ذرائع سے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائیں اوران رہنماؤں کو اہم ذرائع سے پس پردہ یہ پیغام بھیجا جائے کہ وہ اپنی ناراضی کو ختم کریں اوروفاق کے ساتھ جمہوری عمل میں حصہ لینے کا معاہدہ طے کریں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جن ناراض رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے وہ مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے ،اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ جو گروپس یا رہنما مذاکراتی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ واضح طور پر اس کا اعلان کردیں تاکہ مذاکراتی عمل کو مکمل کیاجاسکے۔