پاک ایران تعلقات مزید مضبوط ہونے چاہئیں

پاکستان اور ایران اس خطے کی اہم قوتیں ہیں دونوں ملک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں


Editorial March 28, 2016
ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں ، اس لیے ایران کو بھی اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے اقتصادی تعلقات میں زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔ فوٹو؛ پی آئی ڈی

ایرانی صدر حسن روحانی پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔ انھوں نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' صدر ممنون حسین اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

ان ملاقاتوں کے دوران انھوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی بات کی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک عراق اور شام کی بربادی کا ذکر کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو تفرقہ بازی ختم کرنے اور متحد ہو کر اپنا دفاع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلام آباد میں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان ایران بزنس فورم کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے دہشت گردی اور توانائی کے چیلنجوں سے نمٹنا ناگزیر ہے' ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو شراکت داری میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے' اقتصادی راہداری کے ذریعے خطے کے ممالک کو تجارتی تعلقات میں جوڑنا چاہتے ہیں' اسلامی ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک بار پھر ایران گیس اور تیل کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ایران ڈیموں اور شاہراہوں کی تعمیر میں بھی پاکستان کی مدد کر سکتا ہے' دونوں ملکوں کی ترقی ایک دوسرے سے وابستہ ہے' اپنے وسائل کا رخ پاکستانی سرحدوں کی طرف موڑیں گے اور تعاون کو وسعت دیں گے۔

پاکستان اور ایران مقامی کرنسی میں بھی تجارت کر سکتے ہیں' دفاع اور دفاعی سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی تعاون ہونا چاہیے۔ ایران کے صدر نے صدر ممنون حسین سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت کے فروغ' توانائی' دفاع کے شعبوں میں تعاون' مواصلاتی رابطوں میں اضافے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا۔

ایران اور پاکستان دونوں برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں ایرانی صدر حسن روحانی نے بالکل درست کہا ہے کہ ہماری شناخت ہمارا مسلک نہیں اسلام ہے اور ہمیں اسلام کی حقیقی روح دنیا کو دکھانا ہو گی۔ پاکستان اور ایران کی سرحد کو دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کی منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ پالیسی اپنانا ہوگی۔

جہاں تک دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کا تعلق ہے تو اس سے اس خطے کے عوام کو فائدہ پہنچے گا اور ترقی کی رفتار تیز ہو گی۔ اقتصادی راہداری سے جہاں تجارت کو فروغ ملے گا وہاں خطے کے ممالک کو بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا' اسی جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری کے ذریعے خطے کے ممالک کو تجارتی تعلقات میں جوڑنا چاہتے ہیں۔

خبروں کے مطابق ایرانی صدر کا دورہ پاکستان انتہائی کامیاب رہا' اس دورے میں جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے وہاں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملت اسلامیہ کو داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر طے کی جائے گی۔

پاکستان اور ایران اس خطے کی اہم قوتیں ہیں' دونوں ملک بہت سے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں' خصوصاً ایران کے پاس توانائی وافر مقدار میں ہے جب کہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے' پاکستان ایران سے گیس اور تیل لے کر توانائی کی قلت پر قابو پا سکتا ہے' اسٹرٹیجک ایشوز پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ ایران کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں' افغانستان میں قیام امن اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خاتمے کے لیے بھی ایران اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اب ایران کے امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہو چکے ہیں لہٰذا ایرانی معیشت دنیا کے لیے کھل رہی ہے' یوں دیکھا جائے تو آنے والے وقت میں ایران اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ پاکستان کی اس معاملے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے' ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں جو سست روی چلی آ رہی تھی ' اب وہ ختم ہو رہی ہے۔ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں ، اس لیے ایران کو بھی اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سے اقتصادی تعلقات میں زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔