’’را‘‘ کی موجودگی حکمت عملی وضع کی جائے

ملک میں اغوا برائے تاوان اور قلیل مدتی اغوا کے واقعات دوبارہ رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔


Editorial March 31, 2016
ملک میں اغوا برائے تاوان اور قلیل مدتی اغوا کے واقعات دوبارہ رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ فوٹو؛ فائل

لاہور: ملک کے اہم سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں حال ہی میں گرفتار کیے جانے والے بھارتی خفیہ ادارے را کے اعلیٰ افسر کی گرفتاری اور اس کی جانب سے سندھ اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کرنے اور آپریشن ضرب عضب کے آئی ڈی پیز کو واپس بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں کہیں ''را'' کا نیٹ ورک موجود ہے، بالخصوص کراچی میں تو اسے ختم کیا جائے۔

یہ احکامات انھوں نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے۔ اس وقت ملک تاریخ کے بہت زیادہ حساس مراحل سے گزر رہا ہے، بالخصوص بلوچستان سے را کے ایجنٹ کی گرفتاری کے بعد اور اس انکشاف سے کہ ان کے ایجنٹ کراچی میں بھی کام کر رہے ہیں، لہٰذا ان سب کو دیکھتے ہوئے ہمیں ان کے خلاف تمام تر ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک میں اغوا برائے تاوان اور قلیل مدتی اغوا کے واقعات دوبارہ رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور لوٹ مار کی وارداتیں پھر سے سر اٹھا رہی ہیں، ملک دشمن عناصر عوام میں بے چینی پھیلانے کے لیے شرانگیز کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے بھی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں را کے لیے کام کرنے والے مجرموں اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے تمام تر ضروری اقدامات کرتے ہوئے بارڈرز کو سیل کرنے کی تجویز دی۔ ملک کے عظیم تر مفاد میں جو بھی ممکن ہو اقدامات کرنے چاہئیں۔

نیز جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والا اپیکس کمیٹی سندھ کا اجلاس بھی اہمیت کا حامل ہے، جس میں کمیٹی نے کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں را کی جانب سے منظم کیے جانے والے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے سلسلے میں ایک مربوط حکمت عملی اور ایکش پلان ترتیب دیا تا کہ سندھ میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے کے کسی بھی منصوبے کو وقت سے پہلے ناکام بنایا جا سکے۔

مناسب ہو گا اس سلسلے میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر بھرپور طریقے سے ہاتھ ڈالنے کی حکمت عملی وضع کی جائے۔ را ایجنٹ کی گرفتاری کے بعد ہمیں اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرنا ہو گا، مارکیٹوں، پارکس، اسکولوں اور دیگر اہم مقامات مثلاً ریلوے اسٹیشنز، بس اسٹینڈز، اسپتالوں کی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مؤثر اور وسیع کیا جائے۔